کیا کہوں کیا طرحیں بدلیں چاہ نے آخر کو میرؔ — میر تقی میر

کیا کہوں کیا طرحیں بدلیں چاہ نے آخر کو میرؔ تھا گرہ جو درد چھاتی میں سو اب غم ہو گیا

“What shall I say, what ways shall I change, the desire of the end, O Meer? / The knot of pain that resided in the chest, has now become sorrow.”

— میر تقی میر

معنی

کیا کہوں، کیا طریقے بدلیں، چاہ کے آخر کو، اے میر؟ وہ گُتھی جو درد سینے میں تھی، اب غم ہو گئی۔

تشریح

یہ شعر محبت کی بے ثباتی اور درد کے بدل جانے کے احساس کو بیان کرتا ہے۔ شاعر پوچھتے ہیں کہ محبت نے کیا رنگ بدل دیے کہ اب کیا کیا جائے... جو پہلے صرف دل کی گِری ہوئی गाँठ تھا، وہ اب ایک گہرا غم بن چکا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev10 / 10