غزل

रहता है हड्डियों से मिरी जो हुमा लगा

रहता है हड्डियों से मिरी जो हुमा लगा
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل جدائی اور شدید محبت کے درد کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر اپنے دل میں بسا ہوا غم اور یاد کو ایک مسلسل آگ کی طرح پیش کرتا ہے۔ اشعار میں عشق کی شدت کی ناگزیر کیفیت پر زور دیا گیا ہے، اور یہ کہ درد ہر لمحے موجود ہے، چاہے کوئی بھی سکون یا بہلاو ہو۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
रहता है हड्डियों से मिरी जो हुमा लगा कुछ दर्द-ए-आशिक़ी का उसे भी मज़ा लगा
رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا کچھ درد عاشقی کا اسے بھی مزہ لگا
میری ہڈیوں سے جو شعلہ ہے، اسے بھی دردِ عشق کا کچھ مزہ آ گیا۔
2
ग़ाफ़िल न सोज़-ए-इश्क़ से रह फिर कबाब है गर लाएहा उस आग का टक दिल को जा लगा
غافل نہ سوز عشق سے رہ پھر کباب ہے گر لائحہ اس آگ کا ٹک دل کو جا لگا
غافل نہ سوزِ عشق سے رہ پھر کباب ہے، اگر لائےہا اُس آگ کا ٹک دل کو جا لگا۔ اس کا سادہ معنی ہے کہ عشق کی آگ سے بے خبر نہ رہنا، کیونکہ ابھی بھی کباب کھانے کو باقی ہے؛ اگر اس آگ کو دل میں لایا جائے گا، تو وہ یقیناً جل جائے گا۔
3
देखा हमें जहाँ वो तहाँ आग हो गया भड़का रखा है लोगों ने इस को लगा लगा
دیکھا ہمیں جہاں وہ تہاں آگ ہو گیا بھڑکا رکھا ہے لوگوں نے اس کو لگا لگا
جہاں بھی ہم نے اسے دیکھا، وہاں آگ ہو گئی؛ لوگوں نے اس کو کہتے ہوئے بھڑکایا، 'دیکھو، دیکھو۔'
4
मोहलत तनिक भी हो तो सुख़न कुछ असर करे मैं उठ गया कि ग़ैर तिरे कानों आ लगा
مہلت تنک بھی ہو تو سخن کچھ اثر کرے میں اٹھ گیا کہ غیر ترے کانوں آ لگا
اگر تھوڑی دیر اور رہتی، تو آپ کی باتیں کچھ اثر کرتیں؛ میں جاگا اور دیکھا کہ وہ باتیں میرے کانوں کے لیے نہیں تھیں۔
5
अब आब-ए-चश्म ही है हमारा मुहीत-ए-ख़ल्क़ दरिया को हम ने कब का किनारे रखा लगा
اب آب چشم ہی ہے ہمارا محیط خلق دریا کو ہم نے کب کا کنارے رکھا لگا
اب آبِ چشم ہی ہمارا محبوب تخلیق ہے، ہم نے دریا کو کب کا کنارے رکھا لگا۔
6
हर-चंद उस की तेग़-ए-सितम थी बुलंद लेक वो तौर बद हमें तो क़यामत भला लगा
ہر چند اس کی تیغ ستم تھی بلند لیک وہ طور بد ہمیں تو قیامت بھلا لگا
شاعر کہہ رہا ہے کہ اس کی ظلم کی طاقت چاند اور سورج جیسی تھی، لیکن جس طریقے سے اس نے ہمارے ساتھ سلوک کیا وہ تو قیامت جیسا تھا۔
7
मज्लिस में उस की बार न मुझ को मिली कभू दरवाज़े ही से गरचे बहुत मैं रहा लगा
مجلس میں اس کی بار نہ مجھ کو ملی کبھو دروازے ہی سے گرچہ بہت میں رہا لگا
محفل میں اس کی نظر مجھ پر کبھی نہ پڑی، حالانکہ میں بہت کچھ کہنے کو تیار تھا، مگر میں دروازے تک ہی محدود رہا۔
8
बोसा लबों का माँगते ही मुँह बिगड़ गया क्या इतनी मेरी बात का तुम को बुरा लगा
بوسہ لبوں کا مانگتے ہی منہ بگڑ گیا کیا اتنی میری بات کا تم کو برا لگا
ہونٹوں پر بوسہ مانگتے ہی منہ بگڑ گیا، کیا میری بات سے تمہیں اتنا برا لگا۔
9
आलम की सैर 'मीर' की सोहबत में हो गई तालेअ' से मेरे हाथ ये बे-दस्त-ओ-पा लगा
عالم کی سیر میرؔ کی صحبت میں ہو گئی طالع سے میرے ہاتھ یہ بے دست و پا لگا
آلَم کی سیر 'میر' کی صحبت میں ہو گئی، تالےع' سے میرے ہاتھ یہ بے دست و پا لگا۔ (مطلب: دنیا کی سیر 'میر' کی صحبت میں ہو گئی، اور 'تالےع' سے میرے ہاتھ بے بس ہو گئے।)
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.