غزل

तेग़-ए-सितम से उस की मिरा सर जुदा हुआ

तेग़-ए-सितम से उस की मिरा सर जुदा हुआ
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل جدائی کے درد اور عشق کے عذاب کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ستم کی تلوار سے میرا سر جدا ہو گیا، مگر شکر خدا ہے کہ محبت کا حق ملا۔ یہ غزل دل ٹوٹنے اور زندگی کے تجربات کے گہرے درد کو پیش کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
तेग़-ए-सितम से उस की मिरा सर जुदा हुआ शुक्र ख़ुदा कि हक़ मोहब्बत अदा हुआ
تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا شکر خدا کہ حق محبت ادا ہوا
تگۂ-ए-ستم سے اس کی میرا سر جدا ہوا، جس کا مطلب ہے کہ ظلم کے پیالے سے میرا سر جدا ہو گیا؛ اور شکر خُدا کہ حق محبت ادا ہوا، جس کا مطلب ہے کہ خدا کا شکر ہے کہ محبت کا حق ادا ہو گیا۔
2
क़ासिद को दे के ख़त नहीं कुछ भेजना ज़रूर जाता है अब तो जी ही हमारा चला हुआ
قاصد کو دے کے خط نہیں کچھ بھیجنا ضرور جاتا ہے اب تو جی ہی ہمارا چلا ہوا
قاصد کو دے کے خط نہیں کچھ بھیجنا ضرور۔ جاتا ہے اب تو جی ہی ہمارا چلا ہوا۔
3
वो तो नहीं कि अश्क थमे ही न आँख से निकले है कोई लख़्त-ए-दिल अब सौ जला हुआ
وہ تو نہیں کہ اشک تھمے ہی نہ آنکھ سے نکلے ہے کوئی لخت دل اب سو جلا ہوا
یہ تو نہیں کہ اشک تھمے ہی نہ آنکھ سے نکلے، ہے کوئی لکhtë-ए-دل اب سو جل ہوا।
4
हैरान रंग बाग़-ए-जहाँ था बहुत रुका तस्वीर की कली की तरह दिल न वा हुआ
حیران رنگ باغ جہاں تھا بہت رکا تصویر کی کلی کی طرح دل نہ وا ہوا
حیران رنگ باغِ جہاں تھا بہت رکا، مگر میرا دل تصویر کی کلی جیسا نہ ہوا۔
5
आलम की बे-फ़िज़ाई से तंग आ गए थे हम जागा से दिल गया जो हमारा बजा हुआ
عالم کی بے فضائی سے تنگ آ گئے تھے ہم جاگا سے دل گیا جو ہمارا بجا ہوا
ہم عالم کی بے فزائی سے تنگ آ گئے تھے، جب ہمارا دل جو بَجا ہوا تھا۔
6
दर पे हमारे जी के हुआ ग़ैर के लिए अंजाम-ए-कार मुद्दई' का मुद्दआ' हुआ
در پے ہمارے جی کے ہوا غیر کے لیے انجام کار مدعی کا مدعا ہوا
ہمارے دروازے پر ہی، دل نے اجنبی کی خواہش محسوس کی، اور کارِ انجام کی تلاش ہی مدعی کی دعویٰ بن گئی۔
7
उस के गए पे दिल की ख़राबी न पोछिए जैसे कसो का कोई नगर हो लुटा हुआ
اس کے گئے پہ دل کی خرابی نہ پوچھیے جیسے کسو کا کوئی نگر ہو لٹا ہوا
کسی کے چلے جانے پر دل کی خرابی کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کریں؛ یہ کسی ایسے شہر کی مانند ہے جسے لوٹا گیا ہو۔
8
बद-तर है ज़ीस्त मर्ग से हिज्रान-ए-यार में बीमार दिल भला न हुआ तो भला हुआ
بد تر ہے زیست مرگ سے ہجران یار میں بیمار دل بھلا نہ ہوا تو بھلا ہوا
شاعر کہتے ہیں کہ محبوب سے ہجر میں جینا مرنے سے بھی برا ہے؛ اور یہ بیمار دل اگر زندہ رہے تو مر جانا ہی بہتر ہے۔
9
कहता था 'मीर' हाल तो जब तक तो था भला कुछ ज़ब्त करते करते तिरा हाल क्या हुआ
کہتا تھا میرؔ حال تو جب تک تو تھا بھلا کچھ ضبط کرتے کرتے ترا حال کیا ہوا
میر کہتے تھے کہ جب تک حال اچھا تھا، سب ٹھیک تھا؛ مگر اسے قابو کرنے کی کوشش کرتے کرتے اس کا حال کیا ہو گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.