در پے ہمارے جی کے ہوا غیر کے لیے — میر تقی میر
در پے ہمارے جی کے ہوا غیر کے لیے
انجام کار مدعی کا مدعا ہوا
“At our threshold, the heart felt a stranger's desire, The quest for the outcome became the demand of the claimant.”
— میر تقی میر
معنی
ہمارے دروازے پر ہی، دل نے اجنبی کی خواہش محسوس کی، اور کارِ انجام کی تلاش ہی مدعی کی دعویٰ بن گئی۔
تشریح
یہ شعر دل کی ایک بہت گہری کیفیت بیان کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ ہمارے دل کا حال اب ہماری مرضی کا نہیں رہا، بلکہ یہ کسی اور کی خواہشات اور دنیا کے مطالبات کا نَتيجة بن چکا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
