غزل

नाज़-ए-चमन वही है बुलबुल से गो ख़िज़ाँ है

नाज़-ए-चमन वही है बुलबुल से गो ख़िज़ाँ है
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل محبت اور فراق کے جذبات کو پیش کرتی ہے، جہاں شاعر فطرت کی خوبصورتی کا موازنہ محبوب کے حسن سے کرتا ہے۔ اس میں یہ کہا گیا ہے کہ جس طرح چمن کا نَز ہمیں بلبل میں ہے، اسی طرح محبوب کے چہرے میں بھی ایک منفرد دلکشی ہے۔ یہ محبت کے نشے اور اس سے پیدا ہونے والی بے چینی کا ایک شاعرانہ بیان ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
नाज़-ए-चमन वही है बुलबुल से गो ख़िज़ाँ है टहनी जो ज़र्द भी है सो शाख़-ए-ज़ाफ़राँ है
ناز چمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہے ٹہنی جو زرد بھی ہے سو شاخ زعفراں ہے
باغ کی نزاکت وہی ہے، چاہے وہ بلبل سے ہو یا خزاں سے؛ جو ٹہنی زرد ہے، وہ زعفران کی شاخ ہے۔
2
गर इस चमन में वो भी इक ही लब-ओ-दहाँ है लेकिन सुख़न का तुझ से ग़ुंचे को मुँह कहाँ है
گر اس چمن میں وہ بھی اک ہی لب و دہاں ہے لیکن سخن کا تجھ سے غنچے کو منہ کہاں ہے
اگر اس چمن میں وہ بھی ایک ہی لب و دہن ہے، تو سُخن کی تجھ سے گنچے کو منہ کہاں ہے؟
3
हंगाम-ए-जल्वा उस के मुश्किल है ठहरे रहना चितवन है दिल की आफ़त-ए-चश्मक बला-ए-जाँ है
ہنگام جلوہ اس کے مشکل ہے ٹھہرے رہنا چتون ہے دل کی آفت چشمک بلائے جاں ہے
اس کے جادو کے ماحول میں ٹھہرنا مشکل ہے؛ دل کی نظر کا یہ عذاب، جان لیوا مصیبت ہے۔
4
पत्थर से तोड़ने के क़ाबिल है आरसी तू पर क्या करें कि प्यारे मुँह तेरा दरमियाँ है
پتھر سے توڑنے کے قابل ہے آرسی تو پر کیا کریں کہ پیارے منہ تیرا درمیاں ہے
تُو پتھر سے ٹوٹنے کے قابل ہے آئینہ، پر کیا کریں کہ پیارے، تیرا چہرہ درمیان میں ہے۔
5
बाग़-ओ-बहार है वो मैं किश्त-ए-ज़ाफ़राँ हूँ जो लुत्फ़ इक इधर है तो याँ भी इक समाँ है
باغ و بہار ہے وہ میں کشت‌ زعفراں ہوں جو لطف اک ادھر ہے تو یاں بھی اک سماں ہے
میں بہاروں اور خوشیوں کا باغ ہوں، میں قِشتِ زَٰفراں ہوں؛ جو لطف اک ادھر ہے تو یہاں بھی اک سمان ہے۔
6
हर-चंद ज़ब्त करिए छुपता है इश्क़ कोई गुज़रे है दिल पे जो कुछ चेहरे ही से अयाँ है
ہر چند ضبط کریے چھپتا ہے عشق کوئی گزرے ہے دل پہ جو کچھ چہرے ہی سے عیاں ہے
ہر-चंद کو زبُت کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ عشق کوئی چھپتا ہے۔ جو کچھ بھی دل سے گزرا ہے، وہ محض چہروں کا ایک اظہار ہے۔
7
इस फ़न में कोई बे-तह क्या हो मिरा मुआरिज़ अव्वल तो मैं सनद हूँ फिर ये मिरी ज़बाँ है
اس فن میں کوئی بے تہہ کیا ہو مرا معارض اول تو میں سند ہوں پھر یہ مری زباں ہے
اس فن میں کوئی بے تہ کیا ہو میرا معارض اول تو میں سند ہوں پھر یہ میری زبان ہے
8
आलम में आब-ओ-गिल का ठहराव किस तरह हो गर ख़ाक है अड़े है वर आब है रवाँ है
عالم میں آب و گل کا ٹھہراؤ کس طرح ہو گر خاک ہے اڑے ہے ور آب ہے رواں ہے
عالم میں آب و گِل کا ٹھہراؤ کس طرح ہو، جب خاک جمی ہے اور آب بہہ رہا ہے۔
9
चर्चा रहेगा उस का ता-हश्र मय-कशाँ में ख़ूँ-रेज़ी की हमारी रंगीन दास्ताँ है
چرچا رہے گا اس کا تا حشر مے کشاں میں خوں ریزی کی ہماری رنگین داستاں ہے
उसका ता-हश्र और मय-कशाँ में चर्चा रहेगा; ہماری خونریزی کی داستان رنگین ہے۔
10
अज़-ख़वीश रफ़्ता उस बिन रहता है 'मीर' अक्सर रहते हो बात किस से वो आप में कहाँ है
از خویش رفتہ اس بن رہتا ہے میرؔ اکثر رہتے ہو بات کس سے وہ آپ میں کہاں ہے
اَزْخَوِش رَفْتَا اُس بِن رَہتا ہے 'میر' اَکْثَر، وہ شخص جس کی صحبت یا بات کی تلاش کی جاتی ہے، وہ آپ میں کہیں موجود نہیں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.