غزل

ग़ालिब कि ये दिल-ख़स्ता शब-ए-हिज्र में मर जाए

ग़ालिब कि ये दिल-ख़स्ता शब-ए-हिज्र में मर जाए
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل ہجر کی رات میں عشق کے جذبے سے مرنے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ رات اس کہانی جیسی نہیں ہے جو گزر جائے، اور محبوب کی نظر ایک آینے کی طرح ہے جو پل بھر میں سینکڑوں زخم دے کر منہ پھیر جاتا ہے۔ آخر میں، وہ یہ خواہش کرتا ہے کہ یہ سادہ زندگی کہیں سے اتر نہ جائے، جیسا کہ ہر صبح سورج محبوب کے چہرے پر چمکتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
ग़ालिब कि ये दिल-ख़स्ता शब-ए-हिज्र में मर जाए ये रात नहीं वो जो कहानी में गुज़र जाए
غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے یہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائے
شاعر غالب کہتے ہیں کہ یہ دلخستہ شبِ ہجر میں مر جائے، یہ رات نہیں وہ جو کہانی میں گزر جائے۔
2
है तुर्फ़ा मुफ़त्तिन-निगह उस आइना-रू की इक पल में करे सैंकड़ों ख़ूँ और मुकर जाए
ہے طرفہ مفتن نگہ اس آئنہ رو کی اک پل میں کرے سینکڑوں خوں اور مکر جائے
ناگہدی نظروں کا آینہ ایک لمحے میں سینکڑوں زخم دکھاتا ہے اور پھر منہ موڑ جاتا ہے۔
3
ने बुत-कदा है मंज़िल-ए-मक़्सूद न का'बा जो कोई तलाशी हो तिरा आह किधर जाए
نے بت کدہ ہے منزل مقصود نہ کعبہ جو کوئی تلاشی ہو ترا آہ کدھر جائے
اے، منزل تو کاعبہ نہیں ہے، بلکہ تمہاری آہ کی یاد ہے؛ جو کوئی اسے تلاش کرے، وہ کہاں جائے؟
4
हर सुब्ह तो ख़ुर्शीद तिरे मुँह पे चढ़े है ऐसा न हो ये सादा कहीं जी से उतर जाए
ہر صبح تو خورشید ترے منہ پہ چڑھے ہے ایسا نہ ہو یہ سادہ کہیں جی سے اتر جائے
ہر صبح تو خورشید تیرے منہ پہ چڑھے ہے، ایسا نہ ہو یہ سادہ کہیں جی سے اتر جائے
5
याक़ूत कोई उन को कहे है कोई गुल-बर्ग टुक होंट हिला तू भी कि इक बात ठहर जाए
یاقوت کوئی ان کو کہے ہے کوئی گلبرگ ٹک ہونٹ ہلا تو بھی کہ اک بات ٹھہر جائے
یاقوت سے پوچھو کہ کیا کسی نے اسے گل-بہار کہا ہے، بس ہونٹ ہلا کر ایک بات کو ٹھہرنے دو۔
6
हम ताज़ा शहीदों को न आ देखने नाज़ाँ दामन की तिरी ज़ह कहीं लोहू में न भर जाए
ہم تازہ شہیدوں کو نہ آ دیکھنے نازاں دامن کی تری زہ کہیں لوہو میں نہ بھر جائے
میں نہ تازہ شہیدوں کو دیکھنے آؤں گا، نہ ہی تیرا دامن کہیں خون میں بھر جائے۔
7
गिर्ये को मिरे देख टुक इक शहर के बाहर इक सत्ह है पानी का जहाँ तक कि नज़र जाए
گریے کو مرے دیکھ ٹک اک شہر کے باہر اک سطح ہے پانی کا جہاں تک کہ نظر جائے
گِریے کو مِرے دیکھ ٹک اک شہر کے باہر، اِک سَتھ ہے پانی کا جہاں تک کہ نظر جائے۔
8
मत बैठ बहुत इश्क़ के आज़ुर्दा दिलों में नाला कसू मज़लूम का तासीर न कर जाए
مت بیٹھ بہت عشق کے آزردہ دلوں میں نالہ کسو مظلوم کا تاثیر نہ کر جائے
محبت سے بھرے ہوئے آزاد دلوں میں نہ بیٹھو، ورنہ مظلوم کے دکھ کا اثر تمہاری نزاکت اور سکون خراب کر دے۔
9
इस वरते से तख़्ता जो कोई पहुँचे किनारे तो 'मीर' वतन मेरे भी शायद ये ख़बर जाए
اس ورطے سے تختہ جو کوئی پہنچے کنارے تو میرؔ وطن میرے بھی شاید یہ خبر جائے
اگر کوئی اس بہتے ہوئے راستے سے ساحل تک پہنچ جائے، تو میر کو لگتا ہے کہ شاید میرے وطن کی خبر بھی مل جائے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.