غزل

कब से नज़र लगी थी दरवाज़ा-ए-हरम से

कब से नज़र लगी थी दरवाज़ा-ए-हरम से
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل ایک گہرے، تقریباً جادوئی اور شدید عشق کے احساس کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محبوب کی حسن و جمال اور موجودگی کے شدید اثر کا ذکر کرتا ہے، جیسے یہ عشق ایک جادو یا لعنت ہو۔ اشعار میں محبوب کی نگاہ سے ہونے والے مسلسل درد اور جلن کا ذکر ہے، جو عقیدت، جدائی، اور الٰہی کرم کی دعا کا مجموعہ ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
कब से नज़र लगी थी दरवाज़ा-ए-हरम से पर्दा उठा तो लड़ियाँ आँखें हमारी हम से
کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سے پردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے
شاعر پوچھ رہا ہے کہ کب سے نظر دروازہِ حرم سے لگی تھی، اور پردہ اٹھا تو لڑیاں آنکھیں ہماری ہم سے۔
2
सूरत-गर-ए-अजल का क्या हाथ था कहे तो खींची वो तेग़-ए-अबरू फ़ौलाद के क़लम से
صورت گر اجل کا کیا ہاتھ تھا کہے تو کھینچی وہ تیغ ابرو فولاد کے قلم سے
سूरत-گر-ے-عجل کا کیا ہاتھ تھا کہ کہیں تو، اس نے تو اپنی ابرو کی تلوار کو فولاد کے قلم سے کھینچ لیا۔
3
सोज़िश गई न दिल की रोने से रोज़-ओ-शब के जलता हूँ और दरिया बहते हैं चश्म-ए-नम से
سوزش گئی نہ دل کی رونے سے روز و شب کے جلتا ہوں اور دریا بہتے ہیں چشم نم سے
میرے دل کو رونے سے روز و شب جلا دیا ہے، اور میری آنکھوں سے دریا بہہ رہے ہیں۔
4
ताअ'त का वक़्त गुज़रा मस्ती में आब रज़ की अब चश्म-दाश्त उस के याँ है फ़क़त करम से
طاعت کا وقت گزرا مستی میں آب رز کی اب چشم داشت اس کے یاں ہے فقط کرم سے
طاقت کا وقت مستی میں آب رَز کی طرح گزر گیا؛ اب صرف اس کی یادیں اور کرم ہی آنکھوں میں باقی ہیں۔
5
कुढि़ए न रोइए तो औक़ात क्यूँके गुज़रे रहता है मश्ग़ला सा बार-ए-ग़म-ओ-अलम से
کڑھیے نہ روئیے تو اوقات کیونکے گزرے رہتا ہے مشغلہ سا بارے غم و الم سے
اگر تم غم میں نہیں روو گے تو وقت کیسے گزرے گا، جیسے کہ غم اور دکھ کے بوجھ سے۔
6
मशहूर है समाजत मेरी कि तेग़ बरसी पर मैं न सर उठाया हरगिज़ तिरे क़दम से
مشہور ہے سماجت میری کہ تیغ برسی پر میں نہ سر اٹھایا ہرگز ترے قدم سے
معاشرتی میں میری پہچان ہے کہ میں ایک طوفان ہوں، مگر میں نے کبھی تمہارے قدموں سے سر نہیں اٹھایا۔
7
बात एहतियात से कर ज़ाएअ' न कर नफ़स को बालीदगी-ए-दिल है मानिंद-ए-शीशा दम से
بات احتیاط سے کر ضائع نہ کر نفس کو بالیدگی دل ہے مانند شیشہ دم سے
بات احتیاط سے کر، ضائع نہ کر اپنی جان کو؛ کیونکہ دل کی ولائت شیشے جیسی ہے، جو ایک دم سے ٹوٹ سکتی ہے۔
8
क्या क्या तअब उठाए क्या क्या अज़ाब देखे तब दिल हुआ है उतना ख़ूगर तिरे सितम से
کیا کیا تعب اٹھائے کیا کیا عذاب دیکھے تب دل ہوا ہے اتنا خوگر ترے ستم سے
کتنے دکھ اٹھائے اور کتنے عذاب دیکھے، کہ دل بھی اتنا خوگر ہو گیا تیرے ستم سے۔
9
हस्ती में हम ने आ कर आसूदगी न देखी खुलतीं न काश आँखें ख़्वाब ख़ुश अदम से
ہستی میں ہم نے آ کر آسودگی نہ دیکھی کھلتیں نہ کاش آنکھیں خواب خوش عدم سے
ہستی میں ہم نے آ کر آسودگی نہ دیکھی، / کھلتیں نہ کاش آنکھیں خواب خوش ادم سے۔
10
पामाल कर के हम को पछताओगे बहुत तुम कमयाब हैं जहाँ में सर देने वाले हम से
پامال کر کے ہم کو پچھتاؤ گے بہت تم کم یاب ہیں جہاں میں سر دینے والے ہم سے
پامال کر کے ہم کو پچھتاؤ گے بہت تم، کم یاب ہیں جہاں میں سر دینے والے ہم سے۔
11
दिल दो हो 'मीर' साहब उस बद-मआ'श को तुम ख़ातिर तो जम्अ' कर लो टक क़ौल से क़सम से
دل دو ہو میرؔ صاحب اس بد معاش کو تم خاطر تو جمع کر لو ٹک قول سے قسم سے
اے میر، اس بد-معاش شخص کے لیے تم دو دل جمع کر لو، یہ وعدے اور قسم دونوں سے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.