غزل
किस हुस्न से कहूँ मैं उस की ख़ुश-अख़तरी की
किस हुस्न से कहूँ मैं उस की ख़ुश-अख़तरी की
یہ غزل ایک محبوب کے بے مثال اور منفرد حسن کی تعریف کرتی ہے۔ شاعر پوچھتا ہے کہ اس حسن کا موازنہ کس چیز سے کیا جائے، اور یہ کہ اس چاندنی سے کیا چمک دمک (تاب) اہمیت رکھتی ہے۔ یہ زندگی کے بے ساختہ سفر پر ایک اظہار ہے، جو بے فکری اور گہرے جذبات کے امتزاج کو پیش کرتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
किस हुस्न से कहूँ मैं उस की ख़ुश-अख़तरी की
इस माह-रू के आगे क्या ताब मुश्तरी की
کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کی
اس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کی
میں اس کی خوش-عقبتری کے کس حسن سے کہوں؟ اس ماہ-رُو کے آگے کیا تاب مستری ہے؟
2
रखना न था क़दम याँ जूँ बाद बे-ताम्मुल
सैर इस जहाँ की रहरव पर तू ने सरसरी की
رکھنا نہ تھا قدم یاں جوں باد بے تامل
سیر اس جہاں کی رہرو پر تو نے سرسری کی
اس شعر کا مطلب ہے کہ مجھے نہ آپ کے قدم چاہیے تھے نہ ایک بے فکر نظر، لیکن آپ نے اس دنیا کے راستے پر اتنی ہلکی اور بے پروا نظر سے گزرے۔
3
शुबह बहाल सग में इक 'उम्र सर्फ़ की है
मत पूछ इन ने मुझ से जो आदमी-गरी की
شبہ بحال سگ میں اک عمر صرف کی ہے
مت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی
इस दुनिया में मैंने एक पूरा जीवन गुज़ारा है; مجھ سے انسانوں کے کردار کے بارے میں نہ پوچھ۔
4
पाए गुल उस चमन में छोड़ा गया न हम से
सर पर हमारे अब के मन्नत है बे-परी की
پائے گل اس چمن میں چھوڑا گیا نہ ہم سے
سر پر ہمارے اب کے منت ہے بے پری کی
وہ گل جو تم نے اس چمن میں پایا، وہ تم مجھ سے نہیں چھوڑا۔ اب میرے سر پر بے پری ہونے کی مन्नत है।
5
पेशा तो एक ही था उस का हमारा लेकिन
मजनूँ के तालेओं ने शोहरत में यावरी की
پیشہ تو ایک ہی تھا اس کا ہمارا لیکن
مجنوں کے طالعوں نے شہرت میں یاوری کی
اس کا پیشہ تو ہمارا ہی تھا، مگر مجنوں کے تالوں نے اسے شہرت میں یاوری بنا دیا۔
6
गिर्ये से दाग़-ए-सीना ताज़ा हुए हैं सारे
ये किश्त-ए-ख़ुश्क तू ने ऐ चश्म फिर हरी की
گریے سے داغ سینہ تازہ ہوئے ہیں سارے
یہ کشت خشک تو نے اے چشم پھر ہری کی
تیرے چشمِ بہار نے میرے سینے کے سارے داغ تازہ کر دیے ہیں، کیونکہ تو نے زندگی کا یہ خشک حصہ پھر سے ہرا کر دیا ہے۔
7
ये दौर तो मुआफ़िक़ होता नहीं मगर अब
रखिए बिना-ए-ताज़ा इस चर्ख़-ए-चम्बरी की
یہ دور تو موافق ہوتا نہیں مگر اب
رکھیے بنائے تازہ اس چرخ چنبری کی
یہ دور تو موافق ہوتا نہیں مگر اب رکھیں بغیر تازہ اس چرخِ چمبری کی
8
ख़ूबाँ तुम्हारी ख़ूबी ता-चंद नक़्ल करिए
हम रंजा-ख़ातिरों की क्या ख़ूब दिलबरी की
خوباں تمہاری خوبی تا چند نقل کریے
ہم رنجہ خاطروں کی کیا خوب دلبری کی
آپ کی خوبیاں چاند سے بھی کم نہیں کی جا سکتیں، ہم جو رنج و خاتروں سے بھرے ہیں، ہمارے پاس محبت کا دلکشی کیا ہے۔
9
हम से जो 'मीर' उड़ कर अफ़्लाक-ए-चर्ख़ में हैं
उन ख़ाक में मलूँ की काहे को हमसरी की
ہم سے جو میرؔ اڑ کر افلاک چرخ میں ہیں
ان خاک میں ملوں کی کاہے کو ہمسری کی
جو لوگ ’میر‘ کی طرح افلاکِ چرخ میں اڑ گئے ہیں، میں ان کی خاک میں کس طرح کی ہمسری کی تلاش کروں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
