Sukhan AI
غزل

गुज़रा बना-ए-चर्ख़ से नाला पगाह का

गुज़रा बना-ए-चर्ख़ से नाला पगाह का
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل زندگی کے چکر میں بھٹکنے اور محبت کے درد میں ٹوٹنے کے دکھ کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنے دل کی چاہت اور نگاہوں کے دکھ سے گزر رہا ہے، جہاں ہر قدم پر زخم ہیں۔ یہ محبت کے جدائی کے غم اور ایک دل شکستہ عاشق کے تنہائی کا منظر ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
गुज़रा बना-ए-चर्ख़ से नाला पगाह का ख़ाना-ख़राब हो जियो इस दिल की चाह का
چکر کے گزر جانے سے، غم کی ندی بہتی ہے؛ میرے اس دل کی چاہت کا گھر تباہ ہو جائے۔
2
आँखों में जी मिरा है उधर देखता नहीं मरता हूँ में तो हाए रे सर्फ़ा निगाह का
میری آنکھوں میں جی مچ رہا ہے، میں اُدھر دیکھ نہیں سکتا۔ میں تو صرف آپ کی ایک نگاہ سے مر رہا ہوں۔
5
तलवार मारना तो तुम्हें खेल है वले जाता रहे न जान किसू बे-गुनाह का
اشعار کا مطلب ہے کہ تلوار سے مارنا تو آپ کو کھیل لگتا ہو گا، مگر کسی بے گناہ کی جان यूँ ही نہیں لی جا سکتی۔
6
बद-नाम-ओ-ख़ार-ओ-ज़ार-ओ-नज़ार-ओ-शिकस्ता-हाल अहवाल कुछ न पूछिए उस रू-सियाह का
بَد نَام و خَار و زَار و نَظار و شِکَستہ حال، اِس رو سِیاح کا احوال کچھ نہ پوچھئے۔
7
ज़ालिम ज़मीं से लौटता दामन उठा के चल होगा कमीं में हाथ किसू दाद-ख़्वाह का
زالیِم زمیں سے میں دامن اٹھا کے لوٹ رہا ہوں، اور اس گہرے غم میں میرے راستے کو کس کے پیار سے رہنمائی ملے گی؟
8
ऐ ताज-ए-शह न सर को फ़रव लाऊँ तेरे पास है मो'तक़िद फ़क़ीर नमद की कुलाह का
اے تاجِ شاہ نہ سر کو فر و لاؤں تیرے پاس، ہے متقید فقیر نماد کی کُلّاہ کا۔ (مطلب یہ کہ میں تمہارے سر پر بادشاہ کا تاج نہیں لاؤں گا، کیونکہ میرے پاس تو ایک عقیدت مند فقیر، نماد کی पगड़ी ہے۔)
9
हर लख़्त-ए-दिल में सैद के पैकान भी गए देखा मैं शोख़ ठाठ तिरी सैद-ए-गाह का
हर لختِ دل میں مجھے سدید کی موجودگی دکھائی دی، جب میں نے تمہاری سدید-گاہ کی دلکش شان دیکھی۔
10
बीमार तू न होवे जिए जब तलक कि 'मीर' सोने न देगा शोर तिरी आह आह का
اے 'میر'، تو تب تک زندہ نہیں رہے گا جب تک کہ بیمار نہ ہو جائے، کیونکہ تیری آہوں کا شور مجھے سونے نہیں دے گا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

गुज़रा बना-ए-चर्ख़ से नाला पगाह का | Sukhan AI