غزل
गुज़रा बना-ए-चर्ख़ से नाला पगाह का
गुज़रा बना-ए-चर्ख़ से नाला पगाह का
یہ غزل زندگی کے چکر میں بھٹکنے اور محبت کے درد میں ٹوٹنے کے دکھ کو بیان کرتی ہے۔ شاعر اپنے دل کی چاہت اور نگاہوں کے دکھ سے گزر رہا ہے، جہاں ہر قدم پر زخم ہیں۔ یہ محبت کے جدائی کے غم اور ایک دل شکستہ عاشق کے تنہائی کا منظر ہے۔
نغمہ سنیں
1
गुज़रा बना-ए-चर्ख़ से नाला पगाह का
ख़ाना-ख़राब हो जियो इस दिल की चाह का
گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کا
خانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا
چکر کے گزر جانے سے، غم کی ندی بہتی ہے؛ میرے اس دل کی چاہت کا گھر تباہ ہو جائے۔
2
आँखों में जी मिरा है उधर देखता नहीं
मरता हूँ में तो हाए रे सर्फ़ा निगाह का
آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر دیکھتا نہیں
مرتا ہوں میں تو ہائے رے صرفہ نگاہ کا
میری آنکھوں میں جی مچ رہا ہے، میں اُدھر دیکھ نہیں سکتا۔ میں تو صرف آپ کی ایک نگاہ سے مر رہا ہوں۔
3
सद ख़ानुमाँ-ख़राब हैं हर हर क़दम पे दफ़न
कुश्ता हूँ यार मैं तो तिरे घर की राह का
صد خانماں خراب ہیں ہر ہر قدم پہ دفن
کشتہ ہوں یار میں تو ترے گھر کی راہ کا
ہر قدم پر قبر دُفِن ہے، میں تو تیرے گھر جانے والے راستے کا قُزتا ہوں۔
4
यक क़तरा ख़ून हो के पलक से टपक पड़ा
क़िस्सा ये कुछ हुआ दिल-ए-ग़ुफ़राँ-पनाह का
یک قطرہ خون ہو کے پلک سے ٹپک پڑا
قصہ یہ کچھ ہوا دل غفراں پناہ کا
پلک سے خون کا ایک قطرہ ٹپکنا، یہ اس دل کی کہانی ہے جو معافی پاتا ہے۔
5
तलवार मारना तो तुम्हें खेल है वले
जाता रहे न जान किसू बे-गुनाह का
تلوار مارنا تو تمہیں کھیل ہے ولے
جاتا رہے نہ جان کسو بے گناہ کا
اشعار کا مطلب ہے کہ تلوار سے مارنا تو آپ کو کھیل لگتا ہو گا، مگر کسی بے گناہ کی جان यूँ ही نہیں لی جا سکتی۔
6
बद-नाम-ओ-ख़ार-ओ-ज़ार-ओ-नज़ार-ओ-शिकस्ता-हाल
अहवाल कुछ न पूछिए उस रू-सियाह का
بدنام و خوار و زار و نزار و شکستہ حال
احوال کچھ نہ پوچھیے اس رو سیاہ کا
بَد نَام و خَار و زَار و نَظار و شِکَستہ حال، اِس رو سِیاح کا احوال کچھ نہ پوچھئے۔
7
ज़ालिम ज़मीं से लौटता दामन उठा के चल
होगा कमीं में हाथ किसू दाद-ख़्वाह का
ظالم زمیں سے لوٹتا دامن اٹھا کے چل
ہوگا کمیں میں ہاتھ کسو داد خواہ کا
زالیِم زمیں سے میں دامن اٹھا کے لوٹ رہا ہوں، اور اس گہرے غم میں میرے راستے کو کس کے پیار سے رہنمائی ملے گی؟
8
ऐ ताज-ए-शह न सर को फ़रव लाऊँ तेरे पास
है मो'तक़िद फ़क़ीर नमद की कुलाह का
اے تاج شہ نہ سر کو فرو لاؤں تیرے پاس
ہے معتقد فقیر نمد کی کلاہ کا
اے تاجِ شاہ نہ سر کو فر و لاؤں تیرے پاس، ہے متقید فقیر نماد کی کُلّاہ کا۔ (مطلب یہ کہ میں تمہارے سر پر بادشاہ کا تاج نہیں لاؤں گا، کیونکہ میرے پاس تو ایک عقیدت مند فقیر، نماد کی पगड़ी ہے۔)
9
हर लख़्त-ए-दिल में सैद के पैकान भी गए
देखा मैं शोख़ ठाठ तिरी सैद-ए-गाह का
ہر لخت دل میں صید کے پیکان بھی گئے
دیکھا میں شوخ ٹھاٹھ تری صید گاہ کا
हर لختِ دل میں مجھے سدید کی موجودگی دکھائی دی، جب میں نے تمہاری سدید-گاہ کی دلکش شان دیکھی۔
10
बीमार तू न होवे जिए जब तलक कि 'मीर'
सोने न देगा शोर तिरी आह आह का
بیمار تو نہ ہووے جیے جب تلک کہ میرؔ
سونے نہ دے گا شور تری آہ آہ کا
اے 'میر'، تو تب تک زندہ نہیں رہے گا جب تک کہ بیمار نہ ہو جائے، کیونکہ تیری آہوں کا شور مجھے سونے نہیں دے گا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
