غزل
अब हाल अपना उस के है दिल-ख़्वाह
अब हाल अपना उस के है दिल-ख़्वाह
یہ غزل جدائی اور محبت کے پیچیدہ جذبات کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر اپنے حال کا اظہار کرتے ہوئے کسی پر انحصار نہ ہونے کا احساس دکھاتا ہے۔ یہ محبت کی گہرائی اور الٰہی کی اہمیت کے درمیان ایک متضاد تعلق قائم کرتی ہے، جو دل کی آزادی اور معاشرتی تصورات کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
अब हाल अपना उस के है दिल-ख़्वाह
क्या पूछते हो अल्हम्दुलिल्लाह
اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ
کیا پوچھتے ہو الحمدللہ
اب حال اپنا اس کے ہے دل-خواہ، کیا پوچھتے ہو الحمدللہ۔
2
मर जाओ कोई पर्वा नहीं है
कितना है मग़रूर अल्लाह अल्लाह
مر جاؤ کوئی پروا نہیں ہے
کتنا ہے مغرور اللہ اللہ
مر جاؤ، کوئی پروا نہیں ہے۔ کتنا ہے مغرور اللہ اللہ۔
3
पीर-ए-मुग़ाँ से बे-ए-तिक़ादी
असतग़्फ़फ़िरुल्लाह असतग़्फ़िरुल्लाह
پیر مغاں سے بے اعتقادی
استغفر اللہ استغفر اللہ
میرے موغان کے پیر سے، تیکادی کی مہربانی کے بغیر، 'استغفراللہ، استغفراللہ' کا ورد ہوتا ہے۔
4
कहते हैं उस के तू मुँह लगेगा
हो यूँ ही यारब जूँ है ये अफ़्वाह
کہتے ہیں اس کے تو منہ لگے گا
ہو یوں ہی یا رب جوں ہے یہ افواہ
کہتے ہیں کہ اس کا منہ تجھ پر لگے گا، بس یہ ایک افواہ ہے، یار۔
5
हज़रत से उस की जाना कहाँ है
अब मर रहेगा याँ बंदा दरगाह
حضرت سے اس کی جانا کہاں ہے
اب مر رہے گا یاں بندہ درگاہ
حضرت سے اس کی جان پہچان کہاں ہے؟ کیا یہ بندہ درگاہ میں ہی رہے گا۔
6
सब अक़्ल खोए है राह-ए-मोहब्बत
हो ख़िज़्र दिल में कैसा ही गुमराह
سب عقل کھوئے ہے راہ محبت
ہو خضر دل میں کیسا ہی گمراہ
سب عقل کھو گئی ہے راہِ محبت، اے خضر، دل میں کیسا ہے گمراہ۔
7
मुजरिम हुए हम दिल दे के वर्ना
किस को कसो से होती नहीं चाह
مجرم ہوئے ہم دل دے کے ورنہ
کس کو کسو سے ہوتی نہیں چاہ
दिल دے کے ہم مجرم ہوئے، ورنہ کس کو سے ہوتی نہیں چاہ
8
क्या क्या न रीझें तुम ने पचाईं
अच्छा रिझाया ऐ मेहरबाँ आह
کیا کیا نہ ریجھیں تم نے پچائیں
اچھا رجھایا اے مہرباں آہ
کیا کیا نہ رِجھیں تم نے پچائی، اچھا رِجھایا اے مہرباں آ۔ اس کا سادہ अर्थ है कि प्रिय ने अपने कई आकर्षणों से मन को कैसे मोह लिया और कैसे दिल के दर्द को खुशी में बदल दिया।
9
गुज़रे है देखें क्यूँकर हमारी
उस बेवफ़ा से ने रस्म ने राह
گزرے ہے دیکھیں کیوں کر ہماری
اس بے وفا سے نے رسم نے راہ
ہم کیوں دیکھتے ہیں کہ وہ बेवफ़ا، یا وہ راستہ، جو گزر چکا ہے، ہمیں کیوں دیکھ رہا ہے۔
10
थी ख़्वाहिश-ए-दिल रखना हमाइल
गर्दन में उस की हर गाह-ओ-बे-गाह
تھی خواہش دل رکھنا حمائل
گردن میں اس کی ہر گاہ و بیگاہ
میرے گلے میں اس کی ہر اچھی اور ہر بری خواہش کو اپنے دل میں رکھنا، شاعر۔
11
उस पर कि था वो शह-ए-रग से अक़रब
हरगिज़ न पहुँचा ये दस्त-ए-कोताह
اس پر کہ تھا وہ شہ رگ سے اقرب
ہرگز نہ پہنچا یہ دست کوتاہ
اس پر کہ تھا وہ شہِ رگ سے اقرب، ہرگز نہ پہنچا یہ دستِ کوتاہ۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص رگوں کے شیر जैसा था, और यह छोटा हाथ कभी भी उसे छू नहीं पाया।
12
है मा-सिवा क्या जो 'मीर' कहिए
आगाह सारे उस से हैं आगाह
ہے ماسوا کیا جو میرؔ کہیے
آگاہ سارے اس سے ہیں آگاہ
اے میر، ما-شیوہ کے سوا کیا ہے؟ بتا، تمام رہبر اور ماخذ اسی سے ہیں دواہ۔
13
जल्वे हैं उस के शानें हैं उस की
क्या रोज़ क्या ख़ोर क्या रात क्या माह
جلوے ہیں اس کے شانیں ہیں اس کی
کیا روز کیا خور کیا رات کیا ماہ
اس کی آنکھوں کی چمک اور اس کے کندھوں کی شان کیا ہے؟ یہ روز کیا ہے، یہ مشکل کیا ہے، یہ رات کیا ہے، یہ مہینہ کیا ہے؟
14
ज़ाहिर कि बातिन अव्वल कि आख़िर
अल्लाह अल्लाह अल्लाह अल्लाह
ظاہر کہ باطن اول کہ آخر
اللہ اللہ اللہ اللہ
زاہر سے باطِن، اَوَّل سے آخِر، اللہ، اللہ، اللہ، اللہ۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
