غزل

दिल पे ख़ूँ है यहाँ तुझ को गुमाँ है शीशा

दिल पे ख़ूँ है यहाँ तुझ को गुमाँ है शीशा
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ دل پر خون ہونے کے باوجود، آپ کو آئینہ میں جو وہم ہے وہ جھوٹا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہر پلک پر آنسوؤں سے بھیگا ہوا آئینہ ہے، اور یہ وہم صرف آنکھوں کی شرارت ہے جو نشے میں دیکھنے آتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
दिल पे ख़ूँ है यहाँ तुझ को गुमाँ है शीशा शैख़ क्यूँ मस्त हुआ है तू कहाँ है शीशा
دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ
دل پر خون ہے یہاں، اور تجھے آئینہ سے وہم ہے؛ شاعر کیوں مست ہوا ہے؟ آئینہ کہاں ہے؟
2
शीशा-बाज़ी तो तनिक देखने आ आँखों की हर पलक पर मिरे अश्कों से रवाँ है शीशा
شیشہ بازی تو تنک دیکھنے آ آنکھوں کی ہر پلک پر مرے اشکوں سے رواں ہے شیشہ
آینوں کا کھیل تو بس آنکھوں کو دکھانے کے لیے ہے، / ہر پلک پر آینہ میرے آنسوؤں سے بہہ رہا ہے۔
3
रू-सफेदी है नक़ाब-ए-रुख़-ए-शोर-ए-मस्ती रीश-ए-क़ाज़ी के सबब पुम्बा-दहाँ है शीशा
رو سفیدی ہے نقاب رخ شور مستی ریش قاضی کے سبب پنبہ دہاں ہے شیشہ
مستی کے شور کے چہرے پر جو سفیدی کا نقاب ہے، وہ قاضی کی ریشے کی وجہ سے چمکتا ہوا آئینہ ہے۔
4
मंज़िल-ए-मस्ती को पहुँचे है उन्हें से 'आलम निशा-ए-मै-बलद ओ संग-ए-निशाँ है शीशा
منزل مستی کو پہنچے ہے انہیں سے عالم نشۂ مے بلد و سنگ نشاں ہے شیشہ
مંزلِ-ए-مستی کو پہنچنے کے لیے انہیں 'عالم' ملا ہے؛ اور میرے شہر کی رات اور نشان کا آئینہ ہے۔
5
दरमियाँ हल्का-ए-मस्तताँ के शब उस की जा थी दौर-ए-साग़र में मगर पीर-ए-मुग़ाँ है शीशा
درمیاں حلقۂ مستاں کے شب اس کی جا تھی دور ساغر میں مگر پیر مغاں ہے شیشہ
درمیان ہلکا-ए-مستتاں کے شب اس کی جا تھی، دورِ ساغر میں مگر پیر-ए-مغاں ہے شیشہ۔
6
जा के पूछा जो मैं ये कार-गह-ए-मीना में दिल की सूरत का भी ऐ शीशा-गराँ है शीशा
جا کے پوچھا جو میں یہ کارگہ مینا میں دل کی صورت کا بھی اے شیشہ گراں ہے شیشہ
جب میں نے اس بازار کے نظارے کے بارے میں پوچھا، اے دل کے شیشے، تو تم نے کہا کہ دل کا سُرَت بھی بہت قیمتی ہے۔
7
कहने लागे कि किधर फिरता है बहका ऐ मस्त हर तरह का जो तू देखे है कि याँ है शीशा
کہنے لاگے کہ کدھر پھرتا ہے بہکا اے مست ہر طرح کا جو تو دیکھے ہے کہ یاں ہے شیشہ
کہنے لگے کہ تم کہاں گھومتے ہو، اے مست! جو بھی طرح کی چیز تم دیکھتے ہو، کیا یہ آئینہ ہے؟
8
दिल ही सारे थे पे इक वक़्त में जो कर के गुदाज़ शक्ल शीशे की बनाए हैं कहाँ है शीशा
دل ہی سارے تھے پہ اک وقت میں جو کر کے گداز شکل شیشے کی بنائے ہیں کہاں ہے شیشہ
ایک لمحے میں سارے دل پردے کے کھیل میں قیدی ہو گئے، مگر وہ آئینہ کہاں ہے جس نے شیشے جیسی شکل بنائی؟
9
झुक गया देख के मैं 'मीर' उसे मज्लिस में चश्म-ए-बद-दूर तरहदार जवाँ है शीशा
جھک گیا دیکھ کے میں میرؔ اسے مجلس میں چشم بد دور طرحدار جواں ہے شیشہ
उसे मज्लिस में देख कर मैं 'मीर' झुक गया। उसकी आँखें दूर के، تَرہدار شیشے جیسی ہیں، جو کہ جوانی ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.