منزل مستی کو پہنچے ہے انہیں سے عالم — میر تقی میر
منزل مستی کو پہنچے ہے انہیں سے عالم
نشۂ مے بلد و سنگ نشاں ہے شیشہ
“To reach the destination of intoxication, they have 'Alam; the night of my city and the mirror of the mark.”
— میر تقی میر
معنی
مંزلِ-ए-مستی کو پہنچنے کے لیے انہیں 'عالم' ملا ہے؛ اور میرے شہر کی رات اور نشان کا آئینہ ہے۔
تشریح
یہ شعر دنیا کی فانی خوشیوں اور دکھاوے کی حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے۔ 'آلَم' کہتے ہیں کہ جو لوگ مستی کی منزل پا لیتے ہیں، وہ اکثر حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں۔ शायर आगाह کرتے ہیں کہ محبوب کے نِشان اور یادوں کے سنگِ نشان... ये सब तो बस ایک آئینے میں بنے ہوئے دھوکے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
