غزل
लब तिरे लाल-ए-नाब हैं दोनों
लब तिरे लाल-ए-नाब हैं दोनों
یہ غزل محبوب کے ہونٹوں اور آنکھوں کی دلکش خوبصورتی بیان کرتی ہے۔ اشعار میں زور دیا گیا ہے کہ دونوں ہی خصوصیات انتہائی پرکشش ہیں اور ایک قوی جادو ('اِطاَب') سے سجی ہیں۔ کلام میں یہ اشارہ ہے کہ یہ حسن اتنا بے باک ہے کہ چھپانا ناممکن ہے، جس کی مثال چمکتے آفتاب سے دی گئی ہے۔ یہ غزل عاشق کے اپنے دل اور آنکھوں کی کیفیت پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
लब तिरे लाल-ए-नाब हैं दोनों
पर तमामी इ'ताब हैं दोनों
تمہارے دونوں ہونٹ ندی کے لال جیسے ہیں، مگر دونوں ہی بے پایاں غم سے بھرے ہیں۔
3
है तकल्लुफ़ नक़ाब वे रुख़्सार
क्या छुपें आफ़्ताब हैं दोनों
تکلفِ نقاب و رخسار کی کیا ضرورت، جب دونوں ہی آفتاب کی طرح چمک رہے ہیں۔
4
तन के मामूरे में यही दिल-ओ-चश्म
घर थे दो सो ख़राब हैं दोनों
جسم کے آشیانے میں یہ دل اور چشم بسے ہیں،
دونوں ہی گھر اتنے خراب ہیں کہ یہ دونوں ہی بُرے ہیں۔
5
कुछ न पूछो कि आतिश-ए-ग़म से
जिगर-ओ-दिल कबाब हैं दोनों
کچھ نہ پوچھو کہ آتشِ غم سے جگر و دل کباب ہیں دونوں۔
6
सौ जगह उस की आँखें पड़ती हैं
जैसे मस्त-ए-शराब हैं दोनों
اس کی آنکھیں ہر جگہ پڑتی ہیں، جیسے کہ دونوں نشے میں دھت ہوں۔
7
पाँव में वो नशा तलब का नहीं
अब तो सरमस्त-ए-ख़्वाब हैं दोनों
میرے پاؤں میں وہ نشہ طلب کا نہیں، اب تو ہم دونوں سرمست-ए-خواب ہیں۔
8
एक सब आग एक सब पानी
दीदा-ओ-दिल अज़ाब हैं दोनों
ایک سب آگ اور سب پانی ہے؛ دیدہ اور دل، دونوں ہی عذاب دینے والے ہیں۔
9
बहस काहे को लाल-ओ-मर्जां से
उस के लब ही जवाब हैं दोनों
बहस काहे को लाल-ओ-मर्जन से, اُس کے لب ہی جواب ہیں دونوں۔
10
आगे दरिया थे दीदा-ए-तर 'मीर'
अब जो देखो सराब हैं दोनों
پہلے جہاں صاف دریا تھے، میر، اب جو کچھ بھی نظر آئے وہ صرف سراب ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
