غزل

कहे है कोहकन कर फ़िक्र मेरी ख़स्ता-हाली में

कहे है कोहकन कर फ़िक्र मेरी ख़स्ता-हाली में
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل زندگی کی عدمِ یقینی صورتحال اور محبت کے گہرے تجربات پر مبنی ہے۔ شاعر کوہکن کے نصیحتوں کو رد کرتے ہوئے، اپنی خستہ حالی کے باوجود بھی ذاتِ باری تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اس میں محبت کی طاقت، زندگی کی عارضی حیثیت، اور دل کو تسلی دینے والے لفظوں کی قبولیت جیسے موضوعات شامل ہیں۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
कहे है कोहकन कर फ़िक्र मेरी ख़स्ता-हाली में इलाही शुक्र करता हूँ तिरी दरगाह 'आली में
کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میں الٰہی شکر کرتا ہوں تری درگاہ عالی میں
وہ میری خستہ حال میں فکر کرتے ہیں، مگر میں تیری درگاہ میں الٰہی کا شکر ادا کرتا ہوں۔
2
मैं वो पज़मुर्दा सब्ज़ा हूँ कि हो कर ख़ाक से सरज़द यकायक आ गया उस आसमाँ की पाएमाली में
میں وہ پژمردہ سبزہ ہوں کہ ہو کر خاک سے سرزد یکایک آ گیا اس آسماں کی پائمالی میں
میں وہ نازک پودا ہوں جو خاک سے اُٹھے، / اچانک اس آسمان کی شبنم سے سجی چمک میں آ گیا۔
3
तू सच कह रंग पाँ है ये कि ख़ून इश्क़-बाज़ाँ है सुख़न रखते हैं कितने शख़्स तेरे लब की लाली में
تو سچ کہہ رنگ پاں ہے یہ کہ خون عشق بازاں ہے سخن رکھتے ہیں کتنے شخص تیرے لب کی لالی میں
کیا تو سچ کہہ رہا ہے کہ خون عشق کا ساز ہے؟ کتنے لوگ تیرے ہونٹوں کی لالگی میں باتیں چھپا کر رکھتے ہیں۔
4
बुरा कहना भी मेरा ख़ुश न आया उस को तो वर्ना तसल्ली ये दिल-ए-नाशाद होता एक गाली में
برا کہنا بھی میرا خوش نہ آیا اس کو تو ورنہ تسلی یہ دل ناشاد ہوتا ایک گالی میں
اسے میرا برا کہنا بھی اچھا نہیں لگا، ورنہ یہ دل-ए-ناشاد ایک گالی میں تسلی پاتا۔
5
मिरे उस्ताद को फ़िरदौस-ए-आ'ला में मिले जागा पढ़ाया कुछ न ग़ैर-अज़-इश्क़ मुझ को ख़ुर्द-साली में
مرے استاد کو فردوس اعلیٰ میں ملے جاگا پڑھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خوردسالی میں
میرے استاد کو فردوسِ اعلیٰ میں ملے جاگا، سکھایا کچھ نہ غیر از عشق مجھ کو خرد-صالی میں۔
6
ख़राबी 'इश्क़ से रहती है दिल पर और नहीं रहता निहायत 'ऐब है ये इस दयार-ए-ग़म के वाली में
خرابی عشق سے رہتی ہے دل پر اور نہیں رہتا نہایت عیب ہے یہ اس دیار غم کے والی میں
شاعر کہتا ہے کہ دل پر عشق کی خرابی ہی رہتی ہے اور کچھ نہیں؛ کیا بہت بڑی عیب ہے اس دیارِ غم کے والی میں۔
7
निगाह-ए-चश्म पुर-ख़श्म-ए-बुताँ पर मत नज़र रखना मिला है ज़हर ऐ दिल इस शराब-ए-पुरतगाली में
نگاہ چشم پر خشم بتاں پر مت نظر رکھنا ملا ہے زہر اے دل اس شراب پرتگالی میں
شاعر کہہ رہے ہیں کہ صحرا کی کشمیر جیسی بھنوؤں پر نظر نہ ڈالنا، کیونکہ دل کا زہر اس نشہ آور شراب میں مل چکا ہے۔
8
शराब-ए-ख़ून बिन तड़पूँ से दिल लबरेज़ रहता है भरे हैं संग-रेज़े मैं नय इस मीना-ए-ख़ाली में
شراب خون بن تڑپوں سے دل لبریز رہتا ہے بھرے ہیں سنگ ریزے میں نے اس مینائے خالی میں
خون کی شراب کے بغیر، میرا دل بے قرار رہتا ہے؛ میرے ہم سفر اس نئے خالی گلدان میں بھرے ہوئے ہیں۔
9
ख़िलाफ़ उन और ख़ूबाँ के सदा ये जी में रहता है यही तो 'मीर' इक ख़ूबी है मा'शूक़-ए-ख़याली में
خلاف ان اور خوباں کے سدا یہ جی میں رہتا ہے یہی تو میرؔ اک خوبی ہے معشوق خیالی میں
یہ دل میں ایک ایسی عادت ہے جو ان لوگوں اور خوبصورتی کے خلاف بھی رہتی ہے، 'میر' کے نزدیک، یہ خیالی محبوب میں ایک منفرد خوبی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

कहे है कोहकन कर फ़िक्र मेरी ख़स्ता-हाली में | Sukhan AI