غزل
निकले है जिंस-ए-हुस्न किसी कारवाँ में
निकले है जिंस-ए-हुस्न किसी कारवाँ में
یہ غزل حسن کی انفرادیت کا بیان کرتی ہے، جو کسی کارواں میں ظاہر ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ حسن ہر دکان میں میسر نہیں، اور عشق کے غم کا ایک ہجوم پورے جہاں میں ہنگامہ برپا کر رہا ہے۔ شاعر رب سے دعا کرتا ہے کہ اسے عشق کی اس آگ سے اپنے دل کا درد بیان کرنے کا موقع ملے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
निकले है जिंस-ए-हुस्न किसी कारवाँ में
ये वो नहीं मताअ' कि हो हर दुकान में
حسن کی جنس کسی کارواں میں نکلی ہے، یہ وہ متاع نہیں کہ ہر دکان میں ہو۔
2
जाता है इक हुजूम-ए-ग़म इश्क़-जी के साथ
हंगामा ले चले हैं हम उस भी जहान में
شاعر کہہ رہا ہے کہ وہ غم کے ایک ہجوم کے ساتھ عشق لے کر جا رہا ہے، اور اس دنیا میں بھی اس نے ہنگامہ مچا دیا ہے۔
3
यारब कोई तो वास्ता सर-गश्तगी का है
यक इश्क़ भर रहा है तमाम आसमान में
یارب! کوئی تو واسطہ سر-گشتگی کا ہے، یہ عشق بھر رہا ہے تمام آسمان میں۔ (اے دوست! کیا اس عشق کا آسمان में फैलने کا کوئی سبب ہے؟)
4
हम उस से आह सोज़-ए-दिल अपना न कह सके
थे आतिश-ए-दरूँ से फफोले ज़बान में
ہم اُس سے دل کا درد نہیں کہہ سکے، کیونکہ زبان اندر کی آگ سے چھالے پڑی ہوئی تھی۔
5
ग़म खींचने को कुछ तो तवानाई चाहिए
सिवय्याँ न दिल में ताब न ताक़त है जान में
غم کو کھینچنے کے لیے کچھ تو توانائی چاہیے؛ دل میں نہ تاب ہے اور نہ جان میں طاقت۔
6
ग़ाफ़िल न रहियो हम से कि हम वे नहीं रहे
होता है अब तो हाल अजब एक आन में
ہم سے غافل نہ رہنا کہ ہم وہ نہیں رہے جو پہلے تھے؛ ہمارا حال اب ایک عجیب اور انوکھی کیفیت ہے۔
7
वे दिन गए कि आतिश-ए-ग़म दिल में थी निहाँ
सोज़िश रहे है अब तो हर इक उस्तुख़्वान में
وہ دن گزر گئے کہ آتشِ غم دل میں تھی نِہاں؛ سोज़ِش رہے ہے اب تو ہر اَستوخوان میں۔
8
दिल नज़र-ओ-दीदा-पेश-कश ऐ बाइस-ए-हयात
सच कह कि जी लगे है तिरा किस मकान में
اے دل، نظر و دیدہ پیشکش، اے بایسِ حیات، سچ کہہ کہ جی لگے ہے تیرا کس مکان میں۔
9
खींचा न कर तू तेग़ कि इक दिन नहीं हैं हम
ज़ालिम क़बाहतें हैं बहुत इम्तिहान में
شاعر کہتا ہے کہ تیری کمان کا وتر نہ کھینچ، کیونکہ ہمارے پاس زیادہ دن نہیں ہیں؛ / اور یہ کہ زالِمتیاں اس آزمائش میں بہت ہیں۔
10
फाड़ा हज़ार जा से गरेबान-ए-सब्र-ए-'मीर'
क्या कह गई नसीम-ए-सहर गुल के कान में
ہزار آنسوؤں کے پردے سے، اے میر، صبر کے دیوانے، کیا کہہ گئی نسییمِ سحر گل کے کان میں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
