غزل

क्या मुआफ़िक़ हो दवा इश्क़ के बीमार के साथ

क्या मुआफ़िक़ हो दवा इश्क़ के बीमार के साथ
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل محبت کے مرض اور اس کی بے یقینی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ایک سوال کرتا ہے کہ کیا عشق کے مریض کے ساتھ کوئی دوا ہم آہنگ ہو سکتی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عشق کا درد کسی بھی علاج سے ماوراء ہے۔ اس میں محبوب کے دیدار کی تڑپ اور اس سے جڑے جذباتی کشمکش کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
क्या मुआफ़िक़ हो दवा इश्क़ के बीमार के साथ जी ही जाते नज़र आए हैं इस आज़ार के साथ
کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ
محبت کی بیماری سے کوئی کیسے ہم آہنگ ہو سکتا ہے؟ اس دکھ کے ساتھ جینا ناممکن لگتا ہے۔
2
रात मज्लिस में तिरी हम भी खड़े थे चुपके जैसे तस्वीर लगा दे कोई दीवार के साथ
رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ
رات کی محفل میں، ہم بھی چپ چاپ تمہارے پاس کھڑے تھے، جیسے کوئی تصویر دیوار سے لگی ہو۔
3
मर गए पर भी खुली रह गईं आँखें अपनी कौन इस तरह मुआ हसरत-ए-दीदार के साथ
مر گئے پر بھی کھلی رہ گئیں آنکھیں اپنی کون اس طرح موا حسرت دیدار کے ساتھ
مر جانے کے بعد بھی میری آنکھیں کھلی رہیں، کون اس طرح ملاقات کی چاہت کے ساتھ رکھ سکتا ہے۔
4
शौक़ का काम खिंचा दूर कि अब मेहर मिसाल चश्म-ए-मुश्ताक़ लगी जाए है तूमार के साथ
شوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثال چشم مشتاق لگی جائے ہے طومار کے ساتھ
شوق کا کام کھینچا دور کہ اب مہر مثال۔ چشمِ مشتاق لگی جائے ہے تومار کے ساتھ।
5
राह उस शोख़ की आशिक़ से नहीं रुक सकती जान जाती है चली ख़ूबी-ए-रफ़्तार के साथ
راہ اس شوخ کی عاشق سے نہیں رک سکتی جان جاتی ہے چلی خوبی رفتار کے ساتھ
وہ راستہ اس چنچل کی عاشق سے نہیں رُک سکتا، وہ اپنی رفتار کی خوبی کے ساتھ چلنا جانتا ہے۔
6
वे दिन अब सालते हैं रातों को बरसों गुज़रे जिन दिनों देर रहा करते थे हम यार के साथ
وے دن اب سالتے ہیں راتوں کو برسوں گزرے جن دنوں دیر رہا کرتے تھے ہم یار کے ساتھ
وہ دن اب ایسا لگتا ہے جیسے راتیں بہت دیر تک گزر گئیں، وہ دن جب ہم اپنے دوست کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔
7
ज़िक्र-ए-गुल क्या है सबा अब कि ख़िज़ाँ में हम ने दिल को नाचार लगाया है ख़स ओ ख़ार के साथ
ذکر گل کیا ہے صبا اب کہ خزاں میں ہم نے دل کو ناچار لگایا ہے خس و خار کے ساتھ
اے صبح! اب گل کا ذکر کیا ہے، کہ خزاں میں ہم نے دل کو خوشبو اور کانٹوں سے سجایا ہے۔
8
किस को हर दम है लहू रोने का हिज्राँ में दिमाग़ दिल को इक रब्त सा है दीदा-ए-ख़ूँ-बार के साथ
کس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجراں میں دماغ دل کو اک ربط سا ہے دیدۂ خوں بار کے ساتھ
کس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجران میں دماغ، دل کو اک ربت سا ہے دیدہ-ए-خون بار کے ساتھ۔
9
मेरी उस शोख़ से सोहबत है बे-ऐनिहि वैसी जैसे बन जाए किसू सादे को अय्यार के साथ
میری اس شوخ سے صحبت ہے بعینہ ویسی جیسے بن جائے کسو سادے کو عیار کے ساتھ
اس چنچل اور شرارتی عورت کے ساتھ میرا ساتھ ایسا ہے، جیسے کوئی سادہ آدمی ایک مست عاشق کے ساتھ ہو۔
10
देखिए किस को शहादत से सर-अफ़राज़ करें लाग तो सब को है उस शोख़ की तलवार के साथ
دیکھیے کس کو شہادت سے سرافراز کریں لاگ تو سب کو ہے اس شوخ کی تلوار کے ساتھ
دیکھیے کس کو شہادت سے سر-افراز کریں، / لگ تو سب کو ہے اس سُوخ کی تلوار کے ساتھ۔ اس شعر کا مطلب ہے کہ دیکھو کہ کس کو شہادت کی شان سے سرفراز کیا جائے، کیونکہ وہ شگفتہ (منو بہکاوٹ) تلوار کا اثر سب پر پڑ رہا ہے۔
11
बेकली उस की न ज़ाहिर थी जो तू ऐ बुलबुल दमकश-ए-'मीर' हुई उस लब ओ गुफ़्तार के साथ
بیکلی اس کی نہ ظاہر تھی جو تو اے بلبل دم کش میرؔ ہوئی اس لب و گفتار کے ساتھ
اے بلبل، اس کی خوبصورتی وہ نہیں تھی جو میر کے ہونٹوں اور گفتار کی چمک سے ظاہر ہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.