غزل
क्या मुआफ़िक़ हो दवा इश्क़ के बीमार के साथ
क्या मुआफ़िक़ हो दवा इश्क़ के बीमार के साथ
یہ غزل محبت کے مرض اور اس کی بے یقینی کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ایک سوال کرتا ہے کہ کیا عشق کے مریض کے ساتھ کوئی دوا ہم آہنگ ہو سکتی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عشق کا درد کسی بھی علاج سے ماوراء ہے۔ اس میں محبوب کے دیدار کی تڑپ اور اس سے جڑے جذباتی کشمکش کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
क्या मुआफ़िक़ हो दवा इश्क़ के बीमार के साथ
जी ही जाते नज़र आए हैं इस आज़ार के साथ
محبت کی بیماری سے کوئی کیسے ہم آہنگ ہو سکتا ہے؟ اس دکھ کے ساتھ جینا ناممکن لگتا ہے۔
2
रात मज्लिस में तिरी हम भी खड़े थे चुपके
जैसे तस्वीर लगा दे कोई दीवार के साथ
رات کی محفل میں، ہم بھی چپ چاپ تمہارے پاس کھڑے تھے، جیسے کوئی تصویر دیوار سے لگی ہو۔
3
मर गए पर भी खुली रह गईं आँखें अपनी
कौन इस तरह मुआ हसरत-ए-दीदार के साथ
مر جانے کے بعد بھی میری آنکھیں کھلی رہیں، کون اس طرح ملاقات کی چاہت کے ساتھ رکھ سکتا ہے۔
4
शौक़ का काम खिंचा दूर कि अब मेहर मिसाल
चश्म-ए-मुश्ताक़ लगी जाए है तूमार के साथ
شوق کا کام کھینچا دور کہ اب مہر مثال۔ چشمِ مشتاق لگی جائے ہے تومار کے ساتھ।
5
राह उस शोख़ की आशिक़ से नहीं रुक सकती
जान जाती है चली ख़ूबी-ए-रफ़्तार के साथ
وہ راستہ اس چنچل کی عاشق سے نہیں رُک سکتا، وہ اپنی رفتار کی خوبی کے ساتھ چلنا جانتا ہے۔
6
वे दिन अब सालते हैं रातों को बरसों गुज़रे
जिन दिनों देर रहा करते थे हम यार के साथ
وہ دن اب ایسا لگتا ہے جیسے راتیں بہت دیر تک گزر گئیں، وہ دن جب ہم اپنے دوست کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔
7
ज़िक्र-ए-गुल क्या है सबा अब कि ख़िज़ाँ में हम ने
दिल को नाचार लगाया है ख़स ओ ख़ार के साथ
اے صبح! اب گل کا ذکر کیا ہے، کہ خزاں میں ہم نے دل کو خوشبو اور کانٹوں سے سجایا ہے۔
8
किस को हर दम है लहू रोने का हिज्राँ में दिमाग़
दिल को इक रब्त सा है दीदा-ए-ख़ूँ-बार के साथ
کس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجران میں دماغ، دل کو اک ربت سا ہے دیدہ-ए-خون بار کے ساتھ۔
9
मेरी उस शोख़ से सोहबत है बे-ऐनिहि वैसी
जैसे बन जाए किसू सादे को अय्यार के साथ
اس چنچل اور شرارتی عورت کے ساتھ میرا ساتھ ایسا ہے، جیسے کوئی سادہ آدمی ایک مست عاشق کے ساتھ ہو۔
10
देखिए किस को शहादत से सर-अफ़राज़ करें
लाग तो सब को है उस शोख़ की तलवार के साथ
دیکھیے کس کو شہادت سے سر-افراز کریں، / لگ تو سب کو ہے اس سُوخ کی تلوار کے ساتھ۔ اس شعر کا مطلب ہے کہ دیکھو کہ کس کو شہادت کی شان سے سرفراز کیا جائے، کیونکہ وہ شگفتہ (منو بہکاوٹ) تلوار کا اثر سب پر پڑ رہا ہے۔
11
बेकली उस की न ज़ाहिर थी जो तू ऐ बुलबुल
दमकश-ए-'मीर' हुई उस लब ओ गुफ़्तार के साथ
اے بلبل، اس کی خوبصورتی وہ نہیں تھی جو میر کے ہونٹوں اور گفتار کی چمک سے ظاہر ہو۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
