غزل

क्या कहिए क्या रक्खें हैं हम तुझ से यार ख़्वाहिश

क्या कहिए क्या रक्खें हैं हम तुझ से यार ख़्वाहिश
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل ایک محبوب کے لیے بے شمار اور ناقابل بیان خواہشات اور جذبات کا اظہار ہے۔ شاعر یہ سوال کرتا ہے کہ وہ محبوب سے کیا کہے یا کیا روکے، کیونکہ اس کے دل میں محبت کی بہت سی خواہشیں ہیں جو اسے بے بس کر دیتی ہیں۔ یہ کلام عشق کی پیچیدگی اور اس کے باعث پیدا ہونے والی بے بسی کی عکاسی کرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
क्या कहिए क्या रक्खें हैं हम तुझ से यार ख़्वाहिश यक जान ओ सद तमन्ना यक दिल हज़ार ख़्वाहिश
کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہش یک جان و صد تمنا، یک دل ہزار خواہش
یا کہہیں کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے، یار، خواہش؟ اک جان او صد تمنا، اک دل ہزار خواہش۔
2
ले हाथ में क़फ़स टुक सय्याद चल चमन तक मुद्दत से है हमें भी सैर-ए-बहार ख़्वाहिश
لے ہاتھ میں قفس ٹک صیاد چل چمن تک مدت سے ہے ہمیں بھی سیر بہار خواہش
ہاتھ میں پنجرہ لیے، جیسے سیّاد باغ میں ٹہل رہا ہو، ہمیں بھی بہت وقت سے بہار کی سیر کی خواہش ہے۔
3
ने कुछ गुनह है दिल का ने जुर्म-ए-चश्म इस में रखती है हम को इतना बे-इख़्तियार ख़्वाहिश
نے کچھ گنہ ہے دل کا نے جرم چشم اس میں رکھتی ہے ہم کو اتنا بے اختیار خواہش
نہ کچھ گناہ ہے دل کا نہ جرمِ چشم اس میں، رکھتی ہے ہم کو اتنا بے اختیار خواہش
4
हालाँकि 'उम्र सारी मायूस गुज़री तिस पर क्या क्या रखें हैं उस के उम्मीद-वार ख़्वाहिश
حالانکہ عمر ساری مایوس گزری تس پر کیا کیا رکھیں ہیں اس کے امیدوار خواہش
اگرچہ میری ساری عمر مایوسی میں گزر گئی ہے، پھر بھی میں اس کے لیے کیا امیدیں اور خواہشات رکھوں؟
5
ग़ैरत से दोस्ती की किस किस से होजे दुश्मन रखता है यारी ही की सारा दयार ख़्वाहिश
غیرت سے دوستی کی کس کس سے ہوجے دشمن رکھتا ہے یاری ہی کی سارا دیار خواہش
غیراَت سے دوستی کی کس کس سے ہو جائے دشمن۔ رکھتا ہے یاری ہی کی سارا دیار خواش۔
6
हम मेहर ओ रज़ क्यूँ कर ख़ाली हों आरज़ू से शेवा यही तमन्ना फ़न ओ शि'आर ख़्वाहिश
ہم مہر و رز کیوں کر خالی ہوں آرزو سے شیوہ یہی تمنا فن و شعار خواہش
اے مہر و راز، کیوں خالی کریں آرزو سے؟ شیوا، یہی تمنا فن و شعر خواہش۔
7
उठती है मौज हर यक आग़ोश ही की सूरत दरिया को है ये किस का बोस ओ कनार ख़्वाहिश
اٹھتی ہے موج ہر یک آغوش ہی کی صورت دریا کو ہے یہ کس کا بوس و کنار خواہش
ہر ایک آغوش کی صورت سے ایک لہر اٹھتی ہے؛ یہ دریا کس کا ہے، یا یہ کنارہ کس کی خواہش ہے۔
8
सद रंग जल्वा-गर है हर जादा ग़ैरत गुल 'आशिक़ की एक पावे क्यूँ कर क़रार ख़्वाहिश
صد رنگ جلوہ گر ہے ہر جادہ غیرت گل عاشق کی ایک پاوے کیوں کر قرار خواہش
ہر پھول اپنی چمک سے دلکشی کرتا ہے، مگر عاشق کی خواہش ایک ہی بات پر کیوں ٹھہر جاتی ہے۔
9
यक बार बर न आए उस से उमीद दिल की इज़हार करते कब तक यूँ बार बार ख़्वाहिश
یک بار بر نہ آئے اس سے امید دل کی اظہار کرتے کب تک یوں بار بار خواہش
اس سے امید کہ ایک بار بارش آئے گی، دل کہتا ہے کہ اب بار بار خواہشیں ظاہر کرتے ہوئے امید رکھنا کتنا وقت تک مناسب ہے۔
10
करते हैं सब तमन्ना पर 'मीर' जी न इतनी रक्खेगी मार तुम को पायान-ए-कार ख़्वाहिश
کرتے ہیں سب تمنا پر میرؔ جی نہ اتنی رکھے گی مار تم کو پایان کار خواہش
سب لوگ ہر خواہش کرتے ہیں، مگر میر جی، آپ کے قدم اتنی خواہش کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.