حالانکہ عمر ساری مایوس گزری تس پر — میر تقی میر
حالانکہ عمر ساری مایوس گزری تس پر
کیا کیا رکھیں ہیں اس کے امیدوار خواہش
“Though all my life has passed in despair, what hopes and wishes should I hold?”
— میر تقی میر
معنی
اگرچہ میری ساری عمر مایوسی میں گزر گئی ہے، پھر بھی میں اس کے لیے کیا امیدیں اور خواہشات رکھوں؟
تشریح
یہ شعر عمر بھر کے دکھ اور مایوسی کا اعتراف ہے۔ شاعر پوچھ رہے ہیں کہ جب ساری زندگی ایک امید پر گزر گئی، تو اب مزید کس خواب کی بقا ہے؟ یہ دل کی مکمل سرگوشی ہے، جو ہار ماننے کے بعد آتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
