غزل
कोई हुआ न रू-कश टक मेरी चश्म-ए-तर से
कोई हुआ न रू-कश टक मेरी चश्म-ए-तर से
یہ غزل محبت کے گہرے جذبات اور جدائی کے درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ میری آنکھوں کا پانی کبھی کسی کے ناراض ہونے کی وجہ نہیں بنا، اور وہ اپنے محبوب سے زیادہ امیدیں نہ رکھے۔ یہ زندگی کی فانی نوعیت اور یادوں کے بوجھ سے آزادی پانے کی بات کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
कोई हुआ न रू-कश टक मेरी चश्म-ए-तर से
क्या क्या न अब्र आ कर याँ ज़ोर ज़ोर बरसे
کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سے
کیا کیا نہ ابر آ کر یاں زور زور برسے
کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشمِ تر سے، کیا کیا نہ ابر آ کر یہاں زور زور برسے؟
2
वहशत से मेरी यारो ख़ातिर न जम्अ' रखियो
फिर आवे या न आवे नौ पुर उठा जो घर से
وحشت سے میری یارو خاطر نہ جمع رکھیو
پھر آوے یا نہ آوے نو پر اٹھا جو گھر سے
وہشت سے میری یارو خاطر نہ جمع رکھیو، پھر آوے یا نہ آوے نو پور اٹھا جو گھر سے
3
अब जूँ सरिश्क उन से फिरने की चश्म मत रख
जो ख़ाक में मिले हैं गिर कर तिरी नज़र से
اب جوں سرشک ان سے پھرنے کی چشم مت رکھ
جو خاک میں ملے ہیں گر کر تری نظر سے
اب جھوٹا وہم رکھنا کہ تم ان سے پھرنے کو تیار ہو، جو تو تمہاری نظر سے گر کر خاک میں مل چکے ہیں۔
4
दीदार ख़्वाह उस के कम हों तो शोर कम हो
हर सुब्ह इक क़यामत उठती है उस के दर से
دیدار خواہ اس کے کم ہوں تو شور کم ہو
ہر صبح اک قیامت اٹھتی ہے اس کے در سے
اگر اُس کو دیکھنے کی خوہ کم ہو تو شور کم ہو گا، ہر صبح اُس کے دروازے سے ایک قیامت اٹھے گی۔
5
दाग़ एक हो जिला भी ख़ूँ एक हो बहा भी
अब बहस क्या है दिल से क्या गुफ़्तुगू जिगर से
داغ ایک ہو جلا بھی خوں ایک ہو بہا بھی
اب بحث کیا ہے دل سے کیا گفتگو جگر سے
داغ ایک ہو، ضلع بھی خون ایک ہو بہا بھی۔ اب بحث کیا ہے دل سے، کیا گفتگُو جگر سے۔
6
दिल किस तरह न खींचें अशआ'र रेख़्ते के
बेहतर क्या है मैं ने उस ऐब को हुनर से
دل کس طرح نہ کھینچیں اشعار ریختے کے
بہتر کیا ہے میں نے اس عیب کو ہنر سے
شعر کے رِختے سے دل کو کس طرح نہ کھینچوں؟ کیا بہتر ہے اس عیب کو ہنر سے سجا کر؟
7
अंजाम-ए-कार बुलबुल देखा हम अपनी आँखों
आवारा थे चमन में दो चार टूटे पर से
انجام کار بلبل دیکھا ہم اپنی آنکھوں
آوارہ تھے چمن میں دو چار ٹوٹے پر سے
ہم نے اپنی آنکھوں سے اپنے کام کا انجام، بلبل کی طرح دیکھا؛ ہم باغ میں دو چار ٹُوٹے جگہوں پر آوارہ تھے۔
8
बे-ताक़ती ने दिल की आख़िर को मार रखा
आफ़त हमारे जी की आई हमारे घर से
بے طاقتی نے دل کی آخر کو مار رکھا
آفت ہمارے جی کی آئی ہمارے گھر سے
کمزوری نے دل کے نکھر کو مار رکھا، اور آفت ہمارے جی میں، ہمارے گھر میں آئی ہے۔
9
दिलकश ये मंज़िल आख़िर देखा तो आह निकली
सब यार जा चुके थे आए जो हम सफ़र से
دل کش یہ منزل آخر دیکھا تو آہ نکلی
سب یار جا چکے تھے آئے جو ہم سفر سے
دلکش یہ منزل آخر دیکھا تو آہ نکلی، سب یار جا چکے تھے آئے جو ہم سفر سے
10
आवारा 'मीर' शायद वाँ ख़ाक हो गया है
यक गर्द उठ चले है गाह उस की रहगुज़र से
آوارہ میرؔ شاید واں خاک ہو گیا ہے
یک گرد اٹھ چلے ہے گاہ اس کی رہ گزر سے
آوارہ کہتا ہے کہ شاعر ’میر‘ شاید وہاں خاک ہو گیا ہے، جب وہاں سے گزرتے ہوئے تھوڑا سا دھول کا گبار اٹھتا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
