Sukhan AI
غزل

कोई हुआ न रू-कश टक मेरी चश्म-ए-तर से

कोई हुआ न रू-कश टक मेरी चश्म-ए-तर से
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل محبت کے گہرے جذبات اور جدائی کے درد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ میری آنکھوں کا پانی کبھی کسی کے ناراض ہونے کی وجہ نہیں بنا، اور وہ اپنے محبوب سے زیادہ امیدیں نہ رکھے۔ یہ زندگی کی فانی نوعیت اور یادوں کے بوجھ سے آزادی پانے کی بات کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
वहशत से मेरी यारो ख़ातिर न जम्अ' रखियो फिर आवे या न आवे नौ पुर उठा जो घर से
وہشت سے میری یارو خاطر نہ جمع رکھیو، پھر آوے یا نہ آوے نو پور اٹھا جو گھر سے
3
अब जूँ सरिश्क उन से फिरने की चश्म मत रख जो ख़ाक में मिले हैं गिर कर तिरी नज़र से
اب جھوٹا وہم رکھنا کہ تم ان سے پھرنے کو تیار ہو، جو تو تمہاری نظر سے گر کر خاک میں مل چکے ہیں۔
4
दीदार ख़्वाह उस के कम हों तो शोर कम हो हर सुब्ह इक क़यामत उठती है उस के दर से
اگر اُس کو دیکھنے کی خوہ کم ہو تو شور کم ہو گا، ہر صبح اُس کے دروازے سے ایک قیامت اٹھے گی۔
6
दिल किस तरह न खींचें अशआ'र रेख़्ते के बेहतर क्या है मैं ने उस ऐब को हुनर से
شعر کے رِختے سے دل کو کس طرح نہ کھینچوں؟ کیا بہتر ہے اس عیب کو ہنر سے سجا کر؟
7
अंजाम-ए-कार बुलबुल देखा हम अपनी आँखों आवारा थे चमन में दो चार टूटे पर से
ہم نے اپنی آنکھوں سے اپنے کام کا انجام، بلبل کی طرح دیکھا؛ ہم باغ میں دو چار ٹُوٹے جگہوں پر آوارہ تھے۔
8
बे-ताक़ती ने दिल की आख़िर को मार रखा आफ़त हमारे जी की आई हमारे घर से
کمزوری نے دل کے نکھر کو مار رکھا، اور آفت ہمارے جی میں، ہمارے گھر میں آئی ہے۔
10
आवारा 'मीर' शायद वाँ ख़ाक हो गया है यक गर्द उठ चले है गाह उस की रहगुज़र से
آوارہ کہتا ہے کہ شاعر ’میر‘ شاید وہاں خاک ہو گیا ہے، جب وہاں سے گزرتے ہوئے تھوڑا سا دھول کا گبار اٹھتا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.