غزل

कहते हैं बहार आई गुल फूल निकलते हैं

कहते हैं बहार आई गुल फूल निकलते हैं
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

یہ غزل بہار کے آنے اور زندگی میں نئی سرورات کا بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ بہار آنے سے پھول کھلتے ہیں، مگر اس کے دل میں بھی ایک عجیب سی بے چینی اور بے قرار رہتا ہے۔ وہ ایک گہرے جذباتی بدلتے ہوئے حال کا ذکر کرتا ہے، کہ اب وہ پہلے جیسی بے حسی نہیں رہی، اور آنسو بھی اب ایک دریا کی طرح ابلتے ہیں، جو شدید جذبات اور اداسی کا اظہار ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
कहते हैं बहार आई गुल फूल निकलते हैं हम कुंज-ए-क़फ़स में हैं दिल सीनों में जलते हैं
کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں ہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیں
وہ کہتے ہیں کہ بہار آئی اور گل پھول نکلتے ہیں، مگر ہم تو کنجِ قفس میں ہیں، اور دل سینوں میں جلتے ہیں۔
2
अब एक सी बे-होशी रहती नहीं है हम को कुछ दिल भी सँभलते हैं पर देर सँभलते हैं
اب ایک سی بے ہوشی رہتی نہیں ہے ہم کو کچھ دل بھی سنبھلتے ہیں پر دیر سنبھلتے ہیں
اب ایک سی بے ہوشی نہیں رہتی ہے ہمیں؛ کچھ دل بھی سنبھلتے ہیں، مگر دیر سے سنبھلتے ہیں۔
3
वो तो नहीं इक छींटा रोने का हुआ गाहे अब दीदा-ए-तर अक्सर दरिया से उबलते हैं
وہ تو نہیں اک چھینٹا رونے کا ہوا گاہے اب دیدۂ تر اکثر دریا سے ابلتے ہیں
وہ تو نہیں اک چھینٹا رونے کا ہوا تھا، اب دیدۂٔ طیبہ اکثر دریا سے ابلتے ہیں۔
4
उन पाँव को आँखों से हम मलते रहे जैसा अफ़्सोस से हाथों को अब वैसा ही मलते हैं
ان پاؤں کو آنکھوں سے ہم ملتے رہے جیسا افسوس سے ہاتھوں کو اب ویسا ہی ملتے ہیں
جیسا کہ ہم نے آنکھوں سے ان پاؤں کو ملایا تھا، ویسا ہی اب ہم پچھتاوے سے اپنے ہاتھوں کو ملتے ہیں۔
5
क्या कहिए कि आ'ज़ा सब पानी हुए हैं अपने हम आतिश-ए-हिज्राँ में यूँ ही पड़े गलते हैं
کیا کہیے کہ اعضا سب پانی ہوئے ہیں اپنے ہم آتش ہجراں میں یوں ہی پڑے گلتے ہیں
کیا کہوں کہ میرے سارے عشق کے پانی سوکھ گئے ہیں؛ میں تو بس ہجر کی آگ میں یوں ہی پگھل رہا ہوں۔
6
करते हैं सिफ़त जब हम लाल-ए-लब-ए-जानाँ की तब कोई हमें देखे क्या ला'ल उगलते हैं
کرتے ہیں صفت جب ہم لعل لب جاناں کی تب کوئی ہمیں دیکھے کیا لعل اگلتے ہیں
جب ہم محبوب کے گہرے ہونٹوں کی تعریف کرتے ہیں، تو کیا کوئی ہمیں دیکھتا ہے؟ کیا یہ سرخ ہونٹ بولتے ہیں؟
7
गुल फूल से भी अपने दिल तो नहीं लगते टुक जी लोगों के बेजानाँ किस तौर बहलते हैं
گل پھول سے بھی اپنے دل تو نہیں لگتے ٹک جی لوگوں کے بے جاناں کس طور بہلتے ہیں
شاعر کہتے ہیں کہ دل پھول سے بھی زیادہ قیمتی ہوتے ہیں، لیکن لوگوں کے بے پرواہ دل کس طرح بہتے رہتے ہیں۔
8
हैं नर्म सनम गो न कहने के तईं वर्ना पत्थर हैं उन्हों के दिल काहे को पिघलते हैं
ہیں نرم صنم گو نہ کہنے کے تئیں ورنہ پتھر ہیں انھوں کے دل کاہے کو پگھلتے ہیں
تیرا دل نرم ہے، محبوب، مگر یہ بات کہنا نہیں چاہیے؛ کیونکہ ان کے دل پتھر ہیں، انہیں کیسے پگھلایا جا سکتا ہے۔
9
ऐ गर्म-ए-सफ़र याराँ जो है सो सर-ए-रह है जो रह सको रह जाओ अब 'मीर' भी चलते हैं
اے گرم سفر یاراں جو ہے سو سر رہ ہے جو رہ سکو رہ جاؤ اب میرؔ بھی چلتے ہیں
اے گرمی سفر یاراں جو ہے وہ سرِ راہ ہے، جو رہ سکو رہ جاؤ اب 'میر' بھی چلتے ہیں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.