غزل
का'बे में जाँ-ब-लब थे हम दूरी-ए-बुताँ से
का'बे में जाँ-ब-लब थे हम दूरी-ए-बुताँ से
یہ غزل ایک جذباتی سفر بیان کرتی ہے، جس میں شاعر اپنے محبوب یا خدا کی قربت کی طرف لوٹ آنے کا جذبہ پیش کرتا ہے۔ وہ اپنی ماضی کی دوری اور موجودہ جذباتی قربت کا موازنہ کرتا ہے۔ اشعار میں محبت، جدائی اور سپردگی کے گہرے احساسات کو بیان کیا گیا ہے، جو ایک شدید ترش و شبہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
نغمہ سنیں
1
का'बे में जाँ-ब-लब थे हम दूरी-ए-बुताँ से
आए हैं फिर के यारो अब के ख़ुदा के हाँ से
کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سے
آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے
کعبہ میں جان ب لب تھے ہم دوریِ بُتّاں سے، آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ ہم کعبہ میں، بتوں کے دور سے بعید تھے؛ اور دوستو، ہم پھر سے آئے ہیں، جو خدا کی مہربانی سے ہوا۔
2
तस्वीर के से ताइर ख़ामोश रहते हैं हम
जी कुछ उचट गया है अब नाला ओ फ़ुग़ाँ से
تصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہم
جی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے
تصویر کی طرح ہم خاموش رہتے ہیں، کیونکہ نالۂ فغاں سے کچھ اُچٹ گیا ہے۔
3
जब कौंदती है बिजली तब जानिब-ए-गुलिस्ताँ
रखती है छेड़ मेरे ख़ाशाक-ए-आशियाँ से
جب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاں
رکھتی ہے چھیڑ میرے خاشاک آشیاں سے
جب بجلی چمکتی ہے، تو وہ گلستان کی طرف جاتی ہے اور میرے چھوٹے سے گھونسلے سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہے۔
4
क्या ख़ूबी उस के मुँह की ऐ ग़ुंचा नक़्ल करिए
तू तो न बोल ज़ालिम बू आती है वहाँ से
کیا خوبی اس کے منہ کی اے غنچہ نقل کریے
تو تو نہ بول ظالم بو آتی ہے وہاں سے
کیا خوبی اُس کے منہ کی اے گنچہ نقل کریے
تُو تو نہ بول زالِم بو آتی ہے وہاں سے
5
आँखों ही में रहे हो दिल से नहीं गए हो
हैरान हूँ ये शोख़ी आई तुम्हें कहाँ से
آنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہو
حیران ہوں یہ شوخی آئی تمہیں کہاں سے
آپ آنکھوں میں تو بسے ہوئے ہیں، دل سے نہیں گئے؛ یہ شیخی آپ کو کہاں سے آئی، میں حیران ہوں۔
6
सब्ज़ान-ए-बाग़ सारे देखे हुए हैं अपने
दिलचस्प काहे को हैं उस बेवफ़ा जवाँ से
سبزان باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنے
دلچسپ کاہے کو ہیں اس بے وفا جواں سے
باغ کے سارے سبز حصے اپنے ہی بہت کچھ دیکھ چکے ہیں؛ اس بے وفا جوان کے لیے اس کا کیا کشش ہے۔
7
की शुस्त-ओ-शोबदन की जिस दिन बहुत सी उन ने
धोए थे हाथ मैं ने उस दिन ही अपनी जाँ से
کی شست و شوبدن کی جس دن بہت سی ان نے
دھوئے تھے ہاتھ میں نے اس دن ہی اپنی جاں سے
جس دن بہت سے لوگوں نے، جو سست و سُست تھے، اپنے ہاتھ دھوئے تھے، میں نے اسی دن اپنی جان دے دی۔
8
ख़ामोशी ही में हम ने देखी है मस्लहत अब
हर यक से हाल दिल का मुद्दत कहा ज़बाँ से
خاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت اب
ہر یک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے
ہم نے اب خاموشی میں ہی اپنا سچا بھلا دیکھا ہے، کیونکہ دل کی حالت کو کبھی بھی زباں سے پوری طرح بیان نہیں کیا جا سکتا۔
9
इतनी भी बद-मिज़ाजी हर लहज़ा 'मीर' तुम को
उलझाव है ज़मीं से झगड़ा है आसमाँ से
اتنی بھی بد مزاجی ہر لحظہ میرؔ تم کو
الجھاؤ ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے
اے شاعر میر، تمہاری ہر لہجے میں یہ بد مزاجی اتنی ہے کہ یہ زمین اور آسمان کے درمیان جھگڑا لگتی ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
