सब्ज़ान-ए-बाग़ सारे देखे हुए हैं अपने
दिलचस्प काहे को हैं उस बेवफ़ा जवाँ से
“The green-faced garden has seen all of its own; / What appeal does it hold for that unfaithful youth?”
— میر تقی میر
معنی
باغ کے سارے سبز حصے اپنے ہی بہت کچھ دیکھ چکے ہیں؛ اس بے وفا جوان کے لیے اس کا کیا کشش ہے۔
تشریح
یہ شعر زندگی کے تجربات اور مایوسی کو ایک خوبصورت استعارے کے ذریعے پیش کرتا ہے۔ शायर میر تقی میر نے باغ کو محض ایک جگہ نہیں، بلکہ زندگی کے تمام تجربات کا مظہر بنا دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ باغ نے اپنے ہی رنگ دیکھے ہیں، اس لیے اس بے وفا نوجوان کی عارضی دلچسپی اسے متاثر نہیں کر سکتی۔ یہ ایک گہرا احساس ہے کہ حقیقی اور مکمل تجربے کا چمک دمک بھی اس دل کو چاشما نہیں آتا جو صرف ظاہری کشش میں جیتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
