غزل

जोशिश-ए-अश्क से हूँ आठ पहर पानी में

जोशिश-ए-अश्क से हूँ आठ पहर पानी में
میر تقی میر· Ghazal· 9 shers

اشکوں کی شدید خواہش سے میں آٹھ پہر پانی میں ہوں۔ یہ غزل ایک روح کو جذباتی طوفان اور وجودی پریشانی میں ڈوبا ہوا دکھاتی ہے۔ یہ گہرے جذبات اور زندگی کی مشکل حقیقتوں کے درمیان شدید کشمکش کو بیان کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
जोशिश-ए-अश्क से हूँ आठ पहर पानी में गरचे होते हैं बहुत ख़ौफ़-ओ-ख़तर पानी में
جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں گرچہ ہوتے ہیں بہت خوف و خطر پانی میں
اشکوں کی لہر میں میں آٹھ پہر سے ہوں؛ / حالانکہ پانی میں بہت خوف و خطر ہے۔
2
ज़ब्त-ए-गिर्या ने जलाया है दरूना सारा दिल अचम्भा है कि है सोख़्ता-तर पानी में
ضبط گریہ نے جلایا ہے درونہ سارا دل اچنبھا ہے کہ ہے سوختہ تر پانی میں
زبطِ گریہ نے جلایا ہے درونا سارا؛ دل چمبلا ہے کہ ہے سوکھتا تر پانی میں
3
आब-ए-शमशीर-ए-क़यामत है बुरिंदा उस की ये गवाराई नहीं पाते हैं हर पानी में
آب شمشیر قیامت ہے برندہ اس کی یہ گوارائی نہیں پاتے ہیں ہر پانی میں
آبِ شمشیرِ قیامت ہے بریدہ اُس کی، یہ گوارائی نہیں پاتے ہیں ہر پانی میں
4
तब-ए-दरिया जो हो आशुफ़्ता तो फिर तूफ़ाँ है आह बालों को परागंदा न कर पानी में
طبع دریا جو ہو آشفتہ تو پھر طوفاں ہے آہ بالوں کو پراگندہ نہ کر پانی میں
اگر دریا کی سطح بے چین ہو تو وہ طوفان ہے؛ / بالوں کو پانی میں بہا کر مہکانا نہ کر۔
5
ग़र्क़ आब-ए-अश्क से हूँ लेक उड़ा जाता हूँ जूँ समक गो कि मिरे डूबे हैं पर पानी में
غرق آب اشک سے ہوں لیک اڑا جاتا ہوں جوں سمک گو کہ مرے ڈوبے ہیں پر پانی میں
میں آنسوؤں کے پانی سے ایک جھیل کی طرح اڑ جاتا ہوں، جیسے ایک پرندہ جس کے ساتھی پانی میں ڈوبے ہیں۔
6
मर्दुम-ए-दीदा-ए-तर मर्दुम-ए-आबी हैं मगर रहते हैं रोज़ ओ शब ओ शाम-ओ-सहर पानी में
مردم دیدۂ تر مردم آبی ہیں مگر رہتے ہیں روز و شب و شام و سحر پانی میں
نرم پن آنکھ کے دیدار کا اور پانی کے لمس کا ہے، مگر ہم روز و شب و شام و سحر پانی میں رہتے ہیں۔
7
हैअत आँखों की नहीं वो रही रोते रोते अब तो गिर्दाब से आते हैं नज़र पानी में
ہیئت آنکھوں کی نہیں وہ رہی روتے روتے اب تو گرداب سے آتے ہیں نظر پانی میں
آنکھوں کے آنسو اب کسی دکھ کے نہیں، وہ تو گرداب کے پانی سے آتے ہوئے ہیں۔
8
गिर्या-ए-शब से बहुत आँख डरे है मेरी पाँव रुकते ही नहीं बार-ए-दिगर पानी में
گریۂ شب سے بہت آنکھ ڈرے ہے میری پاؤں رکتے ہی نہیں بار دگر پانی میں
میری آنکھیں قبر جیسی تاریکی سے بہت ڈر چکی ہیں، کیونکہ میرے پاؤں دوسرے زندگی کے پانی میں نہیں ٹھہرتے۔
9
फ़र्त-ए-गिर्या से हुआ 'मीर' तबाह अपना जहाज़ तख़्ता पारे गए क्या जानूँ किधर पानी में
فرط گریہ سے ہوا میرؔ تباہ اپنا جہاز تختہ پارے گئے کیا جانوں کدھر پانی میں
اشکوں کے بہاؤ سے 'میر' نے اپنا جہاز تباہ کر دیا؛ میں نہیں جانتا کہ تختہ پانی میں کہاں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.