طبع دریا جو ہو آشفتہ تو پھر طوفاں ہے — میر تقی میر

طبع دریا جو ہو آشفتہ تو پھر طوفاں ہے آہ بالوں کو پراگندہ نہ کر پانی میں

“If the river's surface is restless, then it is a storm; / Do not make the hair fragrant by putting it in water.”

— میر تقی میر

معنی

اگر دریا کی سطح بے چین ہو تو وہ طوفان ہے؛ / بالوں کو پانی میں بہا کر مہکانا نہ کر۔

تشریح

یہ شعر جذبات کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ शायर کہہ رہے ہیں کہ اگر دل کا پانی، یعنی جذبات، ہل جائیں تو یہ صرف لہریں نہیں، بلکہ ایک مکمل طوفان بن جائیں گے۔ ایک بہت نازک نصیحت ہے کہ احساسات کو بکھرانا نہیں چاہیے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.