Sukhan AI
غزل

जीते-जी कूचा-ए-दिलदार से जाया न गया

जीते-जी कूचा-ए-दिलदार से जाया न गया
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ محبوب کی یاد سے یا اس کی راہ سے گزر جانا ممکن نہیں، چاہے جدائی ہی کیوں نہ ہو۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی دیوار سے میرا سایہ بھی نہیں جا سکا، اور اس کے عشق کے جال میں ایسا پھنس گیا کہ چھڑایا نہیں جا سکا۔ یہ عشق کی دائمی اور ناقابلِ فراموش کیفیت کا بیان ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जीते-जी कूचा-ए-दिलदार से जाया न गया उस की दीवार का सर से मिरे साया न गया
زندہ رہتے ہوئے بھی، میں محبوب کی گلی سے گزر گیا، مگر میری پرچھائی اس کے دل کی دیوار سے جا نہیں سکی۔
2
काव-कावे मिज़ा-ए-यार ओ दिल-ए-ज़ार-ओ-नज़ार गुथ गए ऐसे शिताबी कि छुड़ाया न गया
کا و کا وے مِزاجِ یار او دِلِ زار او نَظار، گُت گئے ایسے شِتابی کہ چھڑا یا نہ گیا۔ (محبوب کا مزاج اور دلِ غم و نگاہ، ایسے جُھن٘ج گئے کہ انہیں الگ نہیں کیا جا سکا۔)
3
वो तो कल देर तलक देखता ईधर को रहा हम से ही हाल-ए-तबाह अपना दिखाया न गया
وہ تو کل دیر تک ادھر کو دیکھتا رہا، ہمیں اپنا تباہ حال کبھی دکھایا نہ گیا۔
4
गर्म-रौ राह-ए-फ़ना का नहीं हो सकता पतंग उस से तो शम्अ-नमत सर भी कटाया न गया
گرم-رُو، راہِ فنا کا نہیں ہو سکتا پتنگ؛ اس سے تو شمعِ نَمَت سر بھی کاٹایا نہ گیا۔
5
पास-ए-नामूस-ए-मोहब्बत था कि फ़रहाद के पास बे-सुतूँ सामने से अपने उठाया न गया
محبت کے ناموس کا پردہ اتنا مضبوط تھا کہ فرہاد اسے اپنے سامنے سے اٹھا نہ سکا۔
7
आतिश-ए-तेज़ जुदाई में यकायक उस बिन दिल जला यूँ कि तनिक जी भी जलाया न गया
جدا ہونے کی تیز آگ میں اچانک، اس کے بغیر، دل کو اتنا جلا دیا کہ تھوڑی سی جان بھی نہیں بچی۔
8
मह ने आ सामने शब याद दिलाया था उसे फिर वो ता सुब्ह मिरे जी से भुलाया न गया
میں نے یہ بات سامنے سے اسے یاد دلائی تھی، پھر بھی وہ صبح تک میرے دل سے بھلا نہ گیا۔
10
जी में आता है कि कुछ और भी मौज़ूँ कीजे दर्द-ए-दिल एक ग़ज़ल में तो सुनाया न गया
مطلب یہ ہے کہ اگرچہ دل کا درد ایک غزل میں بیان ہو چکا ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی دیگر موضوعات (موضوع) ہیں جن کا ذکر کیا جانا چاہیے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.