غزل
जीते-जी कूचा-ए-दिलदार से जाया न गया
जीते-जी कूचा-ए-दिलदार से जाया न गया
یہ غزل بتاتی ہے کہ محبوب کی یاد سے یا اس کی راہ سے گزر جانا ممکن نہیں، چاہے جدائی ہی کیوں نہ ہو۔ شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی دیوار سے میرا سایہ بھی نہیں جا سکا، اور اس کے عشق کے جال میں ایسا پھنس گیا کہ چھڑایا نہیں جا سکا۔ یہ عشق کی دائمی اور ناقابلِ فراموش کیفیت کا بیان ہے۔
نغمہ سنیں
1
जीते-जी कूचा-ए-दिलदार से जाया न गया
उस की दीवार का सर से मिरे साया न गया
جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا
اس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا
زندہ رہتے ہوئے بھی، میں محبوب کی گلی سے گزر گیا، مگر میری پرچھائی اس کے دل کی دیوار سے جا نہیں سکی۔
2
काव-कावे मिज़ा-ए-यार ओ दिल-ए-ज़ार-ओ-नज़ार
गुथ गए ऐसे शिताबी कि छुड़ाया न गया
کاو کاو مژۂ یار و دل زار و نزار
گتھ گئے ایسے شتابی کہ چھڑایا نہ گیا
کا و کا وے مِزاجِ یار او دِلِ زار او نَظار، گُت گئے ایسے شِتابی کہ چھڑا یا نہ گیا۔ (محبوب کا مزاج اور دلِ غم و نگاہ، ایسے جُھن٘ج گئے کہ انہیں الگ نہیں کیا جا سکا۔)
3
वो तो कल देर तलक देखता ईधर को रहा
हम से ही हाल-ए-तबाह अपना दिखाया न गया
وہ تو کل دیر تلک دیکھتا ایدھر کو رہا
ہم سے ہی حال تباہ اپنا دکھایا نہ گیا
وہ تو کل دیر تک ادھر کو دیکھتا رہا، ہمیں اپنا تباہ حال کبھی دکھایا نہ گیا۔
4
गर्म-रौ राह-ए-फ़ना का नहीं हो सकता पतंग
उस से तो शम्अ-नमत सर भी कटाया न गया
گرم رو راہ فنا کا نہیں ہو سکتا پتنگ
اس سے تو شمع نمط سر بھی کٹایا نہ گیا
گرم-رُو، راہِ فنا کا نہیں ہو سکتا پتنگ؛ اس سے تو شمعِ نَمَت سر بھی کاٹایا نہ گیا۔
5
पास-ए-नामूस-ए-मोहब्बत था कि फ़रहाद के पास
बे-सुतूँ सामने से अपने उठाया न गया
پاس ناموس محبت تھا کہ فرہاد کے پاس
بے ستوں سامنے سے اپنے اٹھایا نہ گیا
محبت کے ناموس کا پردہ اتنا مضبوط تھا کہ فرہاد اسے اپنے سامنے سے اٹھا نہ سکا۔
6
ख़ाक तक कूचा-ए-दिलदार की छानी हम ने
जुस्तुजू की पे दिल-ए-गुम-शुदा पाया न गया
خاک تک کوچۂ دل دار کی چھانی ہم نے
جستجو کی پہ دل گم شدہ پایا نہ گیا
ہم نے دلدار کی گلی کو خاک تک چھان مارا، مگر گم شدہ دل نہیں ملا۔
7
आतिश-ए-तेज़ जुदाई में यकायक उस बिन
दिल जला यूँ कि तनिक जी भी जलाया न गया
آتش تیز جدائی میں یکایک اس بن
دل جلا یوں کہ تنک جی بھی جلایا نہ گیا
جدا ہونے کی تیز آگ میں اچانک، اس کے بغیر، دل کو اتنا جلا دیا کہ تھوڑی سی جان بھی نہیں بچی۔
8
मह ने आ सामने शब याद दिलाया था उसे
फिर वो ता सुब्ह मिरे जी से भुलाया न गया
مہ نے آ سامنے شب یاد دلایا تھا اسے
پھر وہ تا صبح مرے جی سے بھلایا نہ گیا
میں نے یہ بات سامنے سے اسے یاد دلائی تھی، پھر بھی وہ صبح تک میرے دل سے بھلا نہ گیا۔
9
ज़ेर-ए-शमशीर-ए-सितम 'मीर' तड़पना कैसा
सर भी तस्लीम-ए-मोहब्बत में हिलाया न गया
زیر شمشیر ستم میرؔ تڑپنا کیسا
سر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا
زیرِ شمشیرِ ستم 'میر'، تڑپنا کیسا؟ سر بھی تسلیمِ محبت میں ہلایا نہ گیا۔
10
जी में आता है कि कुछ और भी मौज़ूँ कीजे
दर्द-ए-दिल एक ग़ज़ल में तो सुनाया न गया
جی میں آتا ہے کہ کچھ اور بھی موزوں کیجے
درد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا
مطلب یہ ہے کہ اگرچہ دل کا درد ایک غزل میں بیان ہو چکا ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی دیگر موضوعات (موضوع) ہیں جن کا ذکر کیا جانا چاہیے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
