غزل

जब नाम तिरा लीजिए तब चश्म भर आवे

जब नाम तिरा लीजिए तब चश्म भर आवे
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل رب کے نام کا ذکر کرنے پر آنکھوں میں آنسو آنے اور زندگی کی مشکلات کے بیچ بھی ایک روحانی سکون کے احساس کو بیان کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ جب دل خدا کے نام میں مشغول ہوتا ہے، تو وہ دنیاوی زندگی کی جدوجہد اور تعلقات کی قید سے آزادی پا لیتا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जब नाम तिरा लीजिए तब चश्म भर आवे इस ज़िंदगी करने को कहाँ से जिगर आवे
جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے اس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے
جب تیرا نام لیا جاتا ہے تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ اس زندگی کو جینے کے لیے دل کہاں سے آتا ہے۔
2
तलवार का भी मारा ख़ुदा रक्खे है ज़ालिम ये तो हो कोई गोर-ए-ग़रीबाँ में दर आवे
تلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالم یہ تو ہو کوئی گور غریباں میں در آوے
ظالم نے تو تلوار کے وار سے بھی خدا کو زندہ رکھا ہے؛ جب کوئی گربےٰں کی نگاہ میں در آئے گا، تو ایسا ہوگا۔
3
मय-ख़ाना वो मंज़र है कि हर सुब्ह जहाँ शैख़ दीवार पे ख़ुर्शीद का मस्ती से सर आवे
مے خانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخ دیوار پہ خورشید کا مستی سے سر آوے
وہ مے خانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخ دیوار پر خورشید کا مستی سے سر آئے۔
4
क्या जानें वे मुर्ग़ान-ए-गिरफ़्तार-ए-चमन को जिन तक कि ब-सद-नाज़ नसीम-ए-सहर आवे
کیا جانیں وے مرغان گرفتار چمن کو جن تک کہ بصد ناز نسیم سحر آوے
وہ کیا جانیں باغی قیدیوں کا، جنہیں صبح کی ٹھنڈی ہوا چھو نہیں پاتی؟
5
तू सुब्ह क़दम-रंजा करे टुक तो है वर्ना किस वास्ते आशिक़ की शब-ए-ग़म बसर आवे
تو صبح قدم رنجہ کرے ٹک تو ہے ورنہ کس واسطے عاشق کی شب غم بسر آوے
اگر تیری نگاہ صبح میں قدم رنجا نہ کرے تو کس وجہ سے عاشق کو شب غم بسر آئے۔
6
हर सू सर-ए-तस्लीम रखे सैद-ए-हरम हैं वो सैद-फ़गन तेग़-ब-कफ़ ता किधर आवे
ہر سو سر تسلیم رکھے صید حرم ہیں وہ صید فگن تیغ بکف تا کدھر آوے
ہر سُو سرِ اطاعت رکھے سیدِ حرم ہیں وہ سید فگن تیغ ب کف تا کِدھر آوے
7
दीवारों से सर मारते फिरने का गया वक़्त अब तू ही मगर आप कभू दर से दर आवे
دیواروں سے سر مارتے پھرنے کا گیا وقت اب تو ہی مگر آپ کبھو در سے در آوے
دیواروں سے سر مارتے پھرنے کا وقت گزر گیا ہے۔ اب، تو ہی مگر آپ کبھی در سے در آویں۔
8
वाइ'ज़ नहीं कैफ़िय्यत-ए-मय-ख़ाना से आगाह यक जुरआ बदल वर्ना ये मिंदील धर आवे
واعظ نہیں کیفیت مے خانہ سے آگاہ یک جرعہ بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے
وائز نہیں کیفّتِ مے خانہ سے آگاہ، یہ جُرا بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے۔ (معنی: تمہیں شراب خانے کے نشے کی حالت سے کوئی علم نہیں ہے، لہٰذا ایک بہادر تبدیلی کرو، ورنہ یہ رومال تمہارے سر پر رکھ دیا جائے گا۔)
9
सन्नाअ हैं सब ख़्वार अज़ाँ जुमला हूँ मैं भी है ऐब बड़ा उस में जिसे कुछ हुनर आवे
صناع ہیں سب خوار ازاں جملہ ہوں میں بھی ہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے
ہر جگہ خالی پن ہے، اور میں بھی خالی پن ہوں۔ وہ بڑی کمی ہے جس میں کوئی ہنر ہو۔
10
ऐ वो कि तू बैठा है सर-ए-राह पे ज़िन्हार कहियो जो कभू 'मीर' बला-कश इधर आवे
اے وہ کہ تو بیٹھا ہے سر راہ پہ زنہار کہیو جو کبھو میرؔ بلاکش ادھر آوے
اے! تم راستے کے بیچ میں ایک قاتل کش چمکیلے کی طرح بیٹھے ہو۔ کہو جو کبھی 'میر' کوئی بلا کش چیز یہاں آئے۔
11
मत दश्त-ए-मोहब्बत में क़दम रख कि ख़िज़र को हर गाम पे इस रह में सफ़र से हज़र आवे
مت دشت محبت میں قدم رکھ کہ خضر کو ہر گام پہ اس رہ میں سفر سے حذر آوے
محبت کے صحرا میں قدم نہ رکھنا، ورنہ خضر ہر قدم پر اس راستے میں سفر سے ظاہر ہو جائیں گے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.