Sukhan AI
غزل

जब नाम तिरा लीजिए तब चश्म भर आवे

जब नाम तिरा लीजिए तब चश्म भर आवे
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل رب کے نام کا ذکر کرنے پر آنکھوں میں آنسو آنے اور زندگی کی مشکلات کے بیچ بھی ایک روحانی سکون کے احساس کو بیان کرتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ جب دل خدا کے نام میں مشغول ہوتا ہے، تو وہ دنیاوی زندگی کی جدوجہد اور تعلقات کی قید سے آزادی پا لیتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जब नाम तिरा लीजिए तब चश्म भर आवे इस ज़िंदगी करने को कहाँ से जिगर आवे
جب تیرا نام لیا جاتا ہے تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ اس زندگی کو جینے کے لیے دل کہاں سے آتا ہے۔
2
तलवार का भी मारा ख़ुदा रक्खे है ज़ालिम ये तो हो कोई गोर-ए-ग़रीबाँ में दर आवे
ظالم نے تو تلوار کے وار سے بھی خدا کو زندہ رکھا ہے؛ جب کوئی گربےٰں کی نگاہ میں در آئے گا، تو ایسا ہوگا۔
7
दीवारों से सर मारते फिरने का गया वक़्त अब तू ही मगर आप कभू दर से दर आवे
دیواروں سے سر مارتے پھرنے کا وقت گزر گیا ہے۔ اب، تو ہی مگر آپ کبھی در سے در آویں۔
8
वाइ'ज़ नहीं कैफ़िय्यत-ए-मय-ख़ाना से आगाह यक जुरआ बदल वर्ना ये मिंदील धर आवे
وائز نہیں کیفّتِ مے خانہ سے آگاہ، یہ جُرا بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے۔ (معنی: تمہیں شراب خانے کے نشے کی حالت سے کوئی علم نہیں ہے، لہٰذا ایک بہادر تبدیلی کرو، ورنہ یہ رومال تمہارے سر پر رکھ دیا جائے گا۔)
10
ऐ वो कि तू बैठा है सर-ए-राह पे ज़िन्हार कहियो जो कभू 'मीर' बला-कश इधर आवे
اے! تم راستے کے بیچ میں ایک قاتل کش چمکیلے کی طرح بیٹھے ہو۔ کہو جو کبھی 'میر' کوئی بلا کش چیز یہاں آئے۔
11
मत दश्त-ए-मोहब्बत में क़दम रख कि ख़िज़र को हर गाम पे इस रह में सफ़र से हज़र आवे
محبت کے صحرا میں قدم نہ رکھنا، ورنہ خضر ہر قدم پر اس راستے میں سفر سے ظاہر ہو جائیں گے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

जब नाम तिरा लीजिए तब चश्म भर आवे | Sukhan AI