Sukhan AI
غزل

बंद-ए-क़बा को ख़ूबाँ जिस वक़्त वा करेंगे

बंद-ए-क़बा को ख़ूबाँ जिस वक़्त वा करेंगे
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل اس وقت کا ذکر کرتی ہے جب 'بند-ए-کعبہ' ختم ہو جائے گا۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب ایسا ہوگا، تو وہ عشق اور فراق کے جذبات کا اظہار کریں گے۔ وہ زندگی میں کیے گئے ہر وعدے اور قرض کو ادا کرنے کی بات کرتے ہوئے، اپنے دل کے دکھ اور تقدیر کے سامنے خود کو نچھاور کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اشعار میں روحانی تڑپ، عقیدت، اور تسلیم شدہ قبولیت کا امتزاج موجود ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
3
है दीन सर का देना गर्दन पे अपनी ख़ूबाँ जीते हैं तो तुम्हारा ये क़र्ज़ अदा करेंगे
ہیں دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خُوبان، جیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریں گے۔ (معنی: یہ کتنا قیمتی ہے کہ دین سر نے اپنی گردن پر تاج دیا، اور اگر ہم زندہ رہے، تو ہم آپ کا یہ قرض ادا کر دیں گے۔)
5
आख़िर तो रोज़े आए दो-चार रोज़ हम भी तरसा बचों में जा कर दारू पिया करेंगे
آخر تو روزے آئے دو-چار روز ہم بھی، ترسا بچوں میں جا کر شراب پیئیں گے۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ جب روزے کے دن آئیں گے، تو ہم بھی دل تڑپ کر بچوں کے درمیان جا کر شراب پئیں گے۔
6
कुछ तो कहेगा हम को ख़ामोश देख कर वो इस बात के लिए अब चुप ही रहा करेंगे
وہ ہمیں خاموش دیکھ کر کچھ تو کہے گا۔ اس بات کے لیے وہ اب خاموش ہی رہے گا۔
8
दामान-ए-दश्त सूखा अब्रों की बे-तही से जंगल में रोने को अब हम भी चला करेंगे
دامنِ دشت کا مطلب ہے صحرا کا کنارہ، اور ابروں کی بے تہی سے اس کا سوکھنا اس کی شدید تنگی یا ویرانی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم بھی اب جنگل میں رونے کے لیے چلیں گے۔
9
लाई तिरी गली तक आवारगी हमारी ज़िल्लत की अपनी अब हम इज़्ज़त किया करेंगे
ہماری آوارگی اب تیرے گلی تک آ پہنچی ہے؛ اب ہم اپنی عزت کو احترام کریں گے۔
10
अहवाल-'मीर' क्यूँकर आख़िर हो एक शब में इक उम्र हम ये क़िस्सा तुम से कहा करेंगे
اے میر، یہ حال کیوں ہے کہ ایک رات میں ہی کہانی ختم ہو جائے گی؟ ہم یہ قصہ تم سے پوری زندگی سناتے رہیں گے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.