غزل
बंद-ए-क़बा को ख़ूबाँ जिस वक़्त वा करेंगे
बंद-ए-क़बा को ख़ूबाँ जिस वक़्त वा करेंगे
یہ غزل اس وقت کا ذکر کرتی ہے جب 'بند-ए-کعبہ' ختم ہو جائے گا۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب ایسا ہوگا، تو وہ عشق اور فراق کے جذبات کا اظہار کریں گے۔ وہ زندگی میں کیے گئے ہر وعدے اور قرض کو ادا کرنے کی بات کرتے ہوئے، اپنے دل کے دکھ اور تقدیر کے سامنے خود کو نچھاور کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اشعار میں روحانی تڑپ، عقیدت، اور تسلیم شدہ قبولیت کا امتزاج موجود ہے۔
نغمہ سنیں
1
बंद-ए-क़बा को ख़ूबाँ जिस वक़्त वा करेंगे
ख़म्याज़ा-कश जो होंगे मिलने के क्या करेंगे
بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے
خمیازہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے
بندِ قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے، خمیٰزہ کش جو ہوں گے ملنے کے کیا کریں گے
2
रोना यही है मुझ को तेरी जफ़ा से हर-दम
ये दिल-दिमाग़ दोनों कब तक वफ़ा करेंगे
رونا یہی ہے مجھ کو تیری جفا سے ہر دم
یہ دل دماغ دونوں کب تک وفا کریں گے
تیرے جفا سے مجھے ہر دم رونا ہی ہے، یہ دل اور دماغ دونوں کب تک وفا کریں گے۔
3
है दीन सर का देना गर्दन पे अपनी ख़ूबाँ
जीते हैं तो तुम्हारा ये क़र्ज़ अदा करेंगे
ہے دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خوباں
جیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریں گے
ہیں دین سر کا دینا گردن پہ اپنی خُوبان، جیتے ہیں تو تمہارا یہ قرض ادا کریں گے۔ (معنی: یہ کتنا قیمتی ہے کہ دین سر نے اپنی گردن پر تاج دیا، اور اگر ہم زندہ رہے، تو ہم آپ کا یہ قرض ادا کر دیں گے۔)
4
दरवेश हैं हम आख़िर दो-इक निगह की रुख़्सत
गोशे में बैठे प्यारे तुम को दुआ करेंगे
درویش ہیں ہم آخر دو اک نگہ کی رخصت
گوشے میں بیٹھے پیارے تم کو دعا کریں گے
ہم درویش ہیں آخر دو-ایک نگاہ کی رخصت، / گوشے میں بیٹھے پیارے، تم کو دعا کریں گے۔
5
आख़िर तो रोज़े आए दो-चार रोज़ हम भी
तरसा बचों में जा कर दारू पिया करेंगे
آخر تو روزے آئے دو چار روز ہم بھی
ترسا بچوں میں جا کر دارو پیا کریں گے
آخر تو روزے آئے دو-چار روز ہم بھی، ترسا بچوں میں جا کر شراب پیئیں گے۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ جب روزے کے دن آئیں گے، تو ہم بھی دل تڑپ کر بچوں کے درمیان جا کر شراب پئیں گے۔
6
कुछ तो कहेगा हम को ख़ामोश देख कर वो
इस बात के लिए अब चुप ही रहा करेंगे
کچھ تو کہے گا ہم کو خاموش دیکھ کر وہ
اس بات کے لیے اب چپ ہی رہا کریں گے
وہ ہمیں خاموش دیکھ کر کچھ تو کہے گا۔ اس بات کے لیے وہ اب خاموش ہی رہے گا۔
7
आलम मिरे है तुझ पर आई अगर क़यामत
तेरी गली के हर-सू महशर हुआ करेंगे
عالم مرے ہے تجھ پر آئی اگر قیامت
تیری گلی کے ہر سو محشر ہوا کریں گے
اگر میرے ہے تجھ پر آئی اگر قیامت، تیری گلی کے ہر سُو محشر ہو کر گے
8
दामान-ए-दश्त सूखा अब्रों की बे-तही से
जंगल में रोने को अब हम भी चला करेंगे
دامان دشت سوکھا ابروں کی بے تہی سے
جنگل میں رونے کو اب ہم بھی چلا کریں گے
دامنِ دشت کا مطلب ہے صحرا کا کنارہ، اور ابروں کی بے تہی سے اس کا سوکھنا اس کی شدید تنگی یا ویرانی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم بھی اب جنگل میں رونے کے لیے چلیں گے۔
9
लाई तिरी गली तक आवारगी हमारी
ज़िल्लत की अपनी अब हम इज़्ज़त किया करेंगे
لائی تری گلی تک آوارگی ہماری
ذلت کی اپنی اب ہم عزت کیا کریں گے
ہماری آوارگی اب تیرے گلی تک آ پہنچی ہے؛ اب ہم اپنی عزت کو احترام کریں گے۔
10
अहवाल-'मीर' क्यूँकर आख़िर हो एक शब में
इक उम्र हम ये क़िस्सा तुम से कहा करेंगे
احوال میرؔ کیوں کر آخر ہو ایک شب میں
اک عمر ہم یہ قصہ تم سے کہا کریں گے
اے میر، یہ حال کیوں ہے کہ ایک رات میں ہی کہانی ختم ہو جائے گی؟ ہم یہ قصہ تم سے پوری زندگی سناتے رہیں گے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
