दामान-ए-दश्त सूखा अब्रों की बे-तही से
जंगल में रोने को अब हम भी चला करेंगे
“The skirt of the desert, parched by the depth of clouds, Now, too, we shall go to the jungle to cry.”
— میر تقی میر
معنی
دامنِ دشت کا مطلب ہے صحرا کا کنارہ، اور ابروں کی بے تہی سے اس کا سوکھنا اس کی شدید تنگی یا ویرانی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم بھی اب جنگل میں رونے کے لیے چلیں گے۔
تشریح
یہ شعر ایک گہرے غم کی عکاسی کرتا ہے۔ دشت کا خشک ہونا، بادلوں کی بے تہی سے ہوتا ہے، یعنی غم کی گہرائی سے۔ یہ اعتراف ہے کہ درد اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں انسان کو صرف جنگل میں ٹوٹ کر رونے کا سہارا ملتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
