غزل
اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے
اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے
یہ غزل محبوب کی ستم گر نگاہوں کے تیروں اور عشق کے الم ناک تجربات کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ گناہوں کے بوجھ، ندامت اور بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ سر تسلیمِ خم کرنے کے گہرے روحانی احساس کی عکاسی کرتی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
इशारे क्या निगह-ए-नाज़-ए-दिलरुबा के चले
सितम के तीर चले नीमचे क़ज़ा के चले
اشارے کیا نگۂ ناز دل ربا کے چلے
ستم کے تیر چلے نیمچے قضا کے چلے
محبوب کی ناز بھری نگاہوں کے کیا اشارے چلے کہ ظلم کے تیر اور موت کے خنجر چل پڑے۔
2
गुनह का बोझ जो गर्दन पे हम उठा के चले
ख़ुदा के आगे ख़जालत से सर झुका के चले
گنہ کا بوجھ جو گردن پہ ہم اٹھا کے چلے
خدا کے آگے خجالت سے سر جھکا کے چلے
جب ہم اپنی گردن پر گناہوں کا بوجھ اٹھا کر چلے، تو خدا کے حضور شرمندگی سے اپنا سر جھکا کر چلے۔
3
तलब से आर है अल्लाह से फ़क़ीरों को
कहीं जो हो गया फेरा सदा सुना के चले
طلب سے عار ہے اللہ سے فقیروں کو
کہیں جو ہو گیا پھیرا صدا سنا کے چلے
فقیروں کو اللہ سے بھی کچھ مانگنے میں عار اور شرم محسوس ہوتی ہے؛ اگر کبھی ان کا چکر لگ بھی جائے تو وہ صرف صدا لگا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
4
पुकारे कहती थी हसरत से ना'श आशिक़ की
सनम किधर को हमें ख़ाक में मिला के चले
پکارے کہتی تھی حسرت سے نعش عاشق کی
صنم کدھر کو ہمیں خاک میں ملا کے چلے
عاشق کی لاش حسرت سے پکار کر کہہ رہی تھی کہ اے محبوب، تم ہمیں خاک میں ملا کر اب کدھر جا رہے ہو۔
5
मिसाल-ए-माही-ए-बे-आब मौजें तड़पा कीं
हबाब फूट के रोए जो तुम नहा के चले
مثال ماہیٔ بے آب موجیں تڑپا کیں
حباب پھوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے
جب تم نہا کر رخصت ہوئے تو لہریں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتی رہیں اور بلبلے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔
6
मक़ाम यूँ हुआ इस कारगाह-ए-दुनिया में
कि जैसे दिन को मुसाफ़िर सरा में आ के चले
مقام یوں ہوا اس کارگاہ دنیا میں
کہ جیسے دن کو مسافر سرا میں آ کے چلے
اس دنیا کی کارگاہ میں ہمارا قیام کچھ اس طرح رہا، جیسے کوئی مسافر دن کے وقت کسی سرائے میں تھوڑی دیر رک کر آگے روانہ ہو جائے۔
7
किसी का दिल न किया हम ने पाएमाल कभी
चले जो राह तो च्यूँटी को भी बचा के चले
کسی کا دل نہ کیا ہم نے پائمال کبھی
چلے جو راہ تو چیونٹی کو بھی بچا کے چلے
ہم نے کبھی کسی کا دل پامال نہیں کیا اور جب بھی راستے پر چلے تو چیونٹی کو بھی بچا کر چلے۔
8
मिला जिन्हें उन्हें उफ़्तादगी से औज मिला
उन्हीं ने खाई है ठोकर जो सर उठा के चले
ملا جنہیں انہیں افتادگی سے اوج ملا
انہیں نے کھائی ہے ٹھوکر جو سر اٹھا کے چلے
جنہیں بھی بلندی اور اعلیٰ مقام ملا ہے وہ عاجزی اور خاکساری سے ملا ہے، جبکہ انہی لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے جو غرور میں سر اٹھا کر چلے۔
9
'अनीस' दम का भरोसा नहीं ठहर जाओ
चराग़ ले के कहाँ सामने हवा के चले
انیسؔ دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے
اے انیس! زندگی کی ایک سانس کا بھی کوئی بھروسا نہیں ہے اس لیے ذرا ٹھہر جاؤ؛ تم چراغ لے کر ہوا کے سامنے کہاں چلے جا رہے ہو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
