انیسؔ دم کا بھروسہ نہیں ٹھہر جاؤ چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے

“'Anis', life is not promised for another breath, pause and stay awhile; where do you go, carrying a flickering lamp against the wind?”

— میر انیس
معنی

اے انیس! زندگی کی ایک سانس کا بھی کوئی بھروسا نہیں ہے اس لیے ذرا ٹھہر جاؤ؛ تم چراغ لے کر ہوا کے سامنے کہاں چلے جا رہے ہو۔

تشریح

میر انیس اس شعر میں انسانی زندگی کی بے ثباتی اور نزاکت کو چراغ اور ہوا کے ایک بے حد دلکش استعارے میں بیان کرتے ہیں۔ انسان کا دم یعنی سانس اتنی ناپائیدار ہے جیسے آندھی کے سامنے جلتا ہوا چراغ، جو کسی بھی لمحے بجھ سکتا ہے۔ شاعر بڑی محبت اور دردمندی سے رک جانے کی التجا کرتے ہیں، کہ جب وقت کا طوفان سامنے کھڑا ہو تو اس نازک وجود کو لے کر تیزی سے بھاگنے کی بجائے کچھ دیر ٹھہر کر اپنوں کے سنگ اس پل کو غنیمت جاننا چاہیے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.