“With wistful yearning, the lover's corpse called out: 'O idol, where do you wander now, having turned me into dust?'”
عاشق کی لاش حسرت سے پکار کر کہہ رہی تھی کہ اے محبوب، تم ہمیں خاک میں ملا کر اب کدھر جا رہے ہو۔
اس شعر میں بے بسی اور حسرت کا ایسا دردناک منظر کھینچا گیا ہے جہاں موت کے بعد بھی عاشق کی تڑپ اور التجا ختم نہیں ہوتی۔ عاشق کا بے جان جسم اپنے سنگدل محبوب سے فریاد کر رہا ہے کہ ہمیں خاک میں ملا کر اور مٹا کر اب تم کس سمت جا رہے ہو؟ یہ اس ادھوری محبت کی لازوال تصویر ہے جہاں زندگی تو ختم ہو جاتی ہے مگر محبوب کی بے رخی کا شکوہ اور حسرت قائم رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
