“Bearing the weight of sins upon our neck we went our way; before God, with head bowed low in shame, we went our way.”
جب ہم اپنی گردن پر گناہوں کا بوجھ اٹھا کر چلے، تو خدا کے حضور شرمندگی سے اپنا سر جھکا کر چلے۔
یہ شعر انسانی ندامت اور عاجزی کے دلی احساس کو کمال خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر نے گناہوں کو کسی خیالی بات کے بجائے ایک بھاری بوجھ کے طور پر دکھایا ہے جسے انسان زندگی بھر اپنی گردن پر اٹھائے پھرتا ہے۔ جب وہ اپنے پروردگار کے سامنے پہنچتا ہے تو شرمساری اور نیاز مندی سے اس کا سر خود بخود جھک جاتا ہے، جہاں تمام غرور مٹ جاتا ہے اور صرف بخشش کی امید باقی رہتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
