“Such was our sojourn in this workshop of the world: like a traveler who stops at an inn by day, only to journey on.”
اس دنیا کی کارگاہ میں ہمارا قیام کچھ اس طرح رہا، جیسے کوئی مسافر دن کے وقت کسی سرائے میں تھوڑی دیر رک کر آگے روانہ ہو جائے۔
شاعر نے اس شعر میں انسانی زندگی کی بے ثباتی کو مسافر اور سرائے کے خوبصورت استعارے سے بیان کیا ہے۔ وہ اس دنیا کو ایک کارگاہ اور سرائے مانتے ہیں جہاں انسان کسی مسافر کی طرح بس دن کے وقت دم لینے ٹھہرتا ہے اور پھر آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ بات انسان کو نرمی سے یاد دلاتی ہے کہ دنیا کے ان جھمیلوں اور رونقوں میں دل مت لگاؤ، کیونکہ ہم سب یہاں مستقل رہنے نہیں بلکہ محض کچھ پل کے لیے آئے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
