“Those who attained the heights reached them through humility; they alone have stumbled who walked with heads held high.”
جنہیں بھی بلندی اور اعلیٰ مقام ملا ہے وہ عاجزی اور خاکساری سے ملا ہے، جبکہ انہی لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے جو غرور میں سر اٹھا کر چلے۔
یہ شعر عاجزی اور انکساری کا ایک خوبصورت اور پُراثر درس دیتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ حقیقی عروج اور بلندی انہی کو نصیب ہوتی ہے جو خاکساری اور سادگی اختیار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ غرور اور تکبر میں گردن اکڑا کر چلتے ہیں، وہ زمین پر پڑے پتھروں سے بے خبر رہ کر بالآخر ٹھوکر کھاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
