طلب سے عار ہے اللہ سے فقیروں کو کہیں جو ہو گیا پھیرا صدا سنا کے چلے

“The true dervishes feel shame to beg, even of God on high; / If ever their wandering brings them near, they sound their call and pass by.”

— میر انیس
معنی

فقیروں کو اللہ سے بھی کچھ مانگنے میں عار اور شرم محسوس ہوتی ہے؛ اگر کبھی ان کا چکر لگ بھی جائے تو وہ صرف صدا لگا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں سچے فقیروں اور درویشوں کی غیرت اور خودداری کا خوبصورت نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ان باوقار صوفیوں کو تو خدا سے بھی کچھ مانگتے ہوئے جھجھک محسوس ہوتی ہے کہ ان کا عشق بے غرض ہے۔ اگر وہ کہیں سے گزریں بھی تو بس صدا لگا کر آگے بڑھ جاتے ہیں، کسی سے مانگنا یا رک کر التجا کرنا ان کے مسلک کے خلاف ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.