غزل

فکر ایں و آں نے جب مجھ کو پریشاں کر دیا

فکر ایں و آں نے جب مجھ کو پریشاں کر دیا

یہ غزل دنیاوی تفکرات اور فکرِ ایں و آں سے نجات پانے کے لیے عشق و جنوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس میں شاعر نے محبوب کے تئیں والہانہ شوق اور اس کے مرتبے کی بتدریج بلندی کو تصوف اور قلبی کیفیات کے پرتاثیر انداز میں پیش کیا ہے۔

Source: Kashkol-e-Majzoob · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
فکر ایں و آں نے جب مجھ کو پریشاں کر دیا مَیں نے سر نذر جنون فتنہ ساماں کر دیا
جب دنیا اور زمانے کی فکروں نے مجھے پریشان کر دیا، تو میں نے اپنا سر ہنگامہ خیز جنون کی نذر کر دیا۔
2
اُن کو تُو نے کیا سے کیا شوق فراواں کر دیا پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جاناں کر دیا
اے بے پناہ شوق، تو نے محبوب کا کیا سے کیا رتبہ کر دیا؛ پہلے اُنہیں میری جان، پھر جان کی جان اور آخر میں تمام محبوبوں کی جان بنا دیا۔
3
ہو چلے تھے وہ عیاں پھر ان کو پنہاں کر دیا ہائے کیا اندھیر تُو نے چشم گریاں کر دیا
محبوب ابھی ظاہر ہونے ہی لگے تھے کہ پھر نظروں سے اوجھل ہو گئے؛ ہائے روتی ہوئی آنکھ، تو نے آنسو بہا کر یہ کیسا اندھیر اور ظلم مچا دیا۔
4
طبع رنگیں نے مری گل کو گلستاں کر دیا کچھ سے کچھ حُسن نظر نے حُسن خُوباں کر دیا
میری رنگین طبیعت نے ایک پھول کو پورا گلستان بنا دیا، اور میری نظر کے حسن نے حسینوں کی خوبصورتی کو کچھ سے کچھ بنا دیا۔
5
زاہدوں کو بھی شریک بزم رنداں کر دیا سینکڑوں کو دُختر رز نے مسلماں کر دیا
شراب (دخترِ رز) نے پرہیزگار زاہدوں کو بھی مے نوشوں کی محفل میں شریک کر دیا اور سینکڑوں لوگوں کو سچا مسلمان بنا دیا۔
6
جاں سپرد تیر اور خُوں صرف پیکاں کر دیا پاس جو کچھ تھا مرے سب نذر مہماں کر دیا
میں نے اپنی جان تیر کے حوالے کر دی اور اپنا خون تیر کی نوک پر خرچ کر دیا، میرے پاس جو کچھ بھی تھا وہ سب میں نے مہمان کی نذر کر دیا۔
7
دردِ دل نے اور سب دردوں کا درماں کر دیا عشق کی مشکل نے ہر مشکل کو آساں کر دیا
دل کے درد نے باقی تمام دُکھوں کا علاج کر دیا اور عشق کی دشواری نے ہر دوسری مشکل کو آسان بنا دیا۔
8
دل قفس میں لگ چلا تھا پھر پریشاں کر دیا ہمصغیر و! تم نے کیوں ذکر گلستاں کر دیا
میرا دل پنجرے میں لگنے ہی لگا تھا کہ تم نے اسے پھر بے چین کر دیا؛ اے ساتھی پرندو، تم نے باغ کا ذکر کیوں چھیڑ دیا؟
9
جب فلک نے مجھ کو محروم گلستاں کر دیا اشک ہائے خوں نے مجھ کو گل بداماں کر دیا
جب آسمان (قسمت) نے مجھے گلشن سے محروم کر دیا، تو میرے خون کے آنسوؤں نے میرے دامن کو پھولوں سے بھر دیا۔
10
یہ تری زلفیں یہ آنکھیں یہ ترا مکھڑا یہ رنگ حُور کو اللہ کی قدرت نے انساں کر دیا
تمہاری یہ زلفیں، یہ آنکھیں، یہ چہرہ اور یہ رنگت ایسی ہے جیسے اللہ کی قدرت نے کسی حور کو انسان بنا دیا ہو۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.