“Even the pious ascetics were drawn into the revelers' fold; the daughter of the vine has turned hundreds into true believers.”
شراب (دخترِ رز) نے پرہیزگار زاہدوں کو بھی مے نوشوں کی محفل میں شریک کر دیا اور سینکڑوں لوگوں کو سچا مسلمان بنا دیا۔
یہ شعر رندانہ شاعری کی شوخی اور تصوف کی گہری بصیرت کا ایک لاجواب نمونہ ہے۔ یہاں ’دُخترِ رز‘ (انگور کی بیٹی یعنی شراب) دراصل عشقِ حقیقی اور قلبی سرور کا استعارہ ہے۔ شاعر چٹکی لیتے ہوئے کہتا ہے کہ خشک پارسائی کا دعویٰ کرنے والے زاہد بھی جب اس بزم میں آئے تو ان کی بناوٹی پرہیزگاری پگھل گئی۔ شراب نے ظاہری رسموں کے پابند دلوں کو کشادہ کر کے اور انا کو مٹا کر انہیں اصل معنوں میں سچا مومن بنا دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
