اُن کو تُو نے کیا سے کیا شوق فراواں کر دیا پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جاناں کر دیا

“To what heights, O boundless longing, have you raised my love divine: first my life, then the soul of my life, and now the beloved of all souls.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

اے بے پناہ شوق، تو نے محبوب کا کیا سے کیا رتبہ کر دیا؛ پہلے اُنہیں میری جان، پھر جان کی جان اور آخر میں تمام محبوبوں کی جان بنا دیا۔

تشریح

اس خوبصورت شعر میں شاعر اپنے بے پناہ شوق اور والہانہ جذبے کے کمال پر حیران ہو کر داد دے رہا ہے۔ عشق جیسے جیسے گہرا ہوتا گیا، اس نے محبوب کے رتبے کو بلندیوں پر پہنچا دیا؛ پہلے وہ صرف ذاتی زندگی یعنی ’جاں‘ تھا، پھر زندگی کی روح یعنی ’جانِ جاں‘ بنا، اور بالآخر تمام جہانوں کا محبوب یعنی ’جانِ جاناں‘ قرار پایا۔ یہ دراصل محبت کی وہ انتہا ہے جہاں عاشق کی نظر میں اس کا محبوب کائنات کا سب سے مقدس مرکز بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.