“My heart had almost settled in the cage, yet was disturbed anew; O fellow songbirds, why did you bring the garden into view?”
میرا دل پنجرے میں لگنے ہی لگا تھا کہ تم نے اسے پھر بے چین کر دیا؛ اے ساتھی پرندو، تم نے باغ کا ذکر کیوں چھیڑ دیا؟
انسان جب کسی قید یا مستقل دکھ میں مبتلا ہوتا ہے تو رفتہ رفتہ اپنے درد سے سمجھوتہ کر کے جینا سیکھ لیتا ہے۔ شاعر کا دل بھی قفص کی بے بسی کا عادی ہونے ہی لگا تھا کہ ساتھی پرندوں نے پرانے چمن کی باتیں چھیڑ دیں۔ بہار اور آزادی کی اس یاد نے بھرتے ہوئے زخموں کو پھر سے ہرا کر دیا، کیونکہ چھن جانے والی خوشیوں کا ذکر بسا اوقات موجودہ قید سے بھی زیادہ اذیت ناک بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
