“Barely had my beloved appeared when they were hidden once more; alas, what cruel injustice you have wrought, O weeping eye!”
محبوب ابھی ظاہر ہونے ہی لگے تھے کہ پھر نظروں سے اوجھل ہو گئے؛ ہائے روتی ہوئی آنکھ، تو نے آنسو بہا کر یہ کیسا اندھیر اور ظلم مچا دیا۔
ذرا سوچیے، جس کے دیدار کی حسرت میں عمر بیت گئی، وہ جیسے ہی سامنے آیا تو بے اختیار بہنے والے آنسوؤں نے نگاہوں کو دھندلا دیا۔ شاعر اپنی ہی روتی ہوئی آنکھ سے شکوہ کرتا ہے کہ تو نے بھی کیا ستم ڈھایا کہ دید کے عین لمحے پر چھلک کر سامنے کے جلوے کو پھر اوجھل کر دیا۔ یہ محبت کا وہ المیہ ہے جہاں خود عاشق کے بے قابو جذبات ہی اس کی مراد کے راستے کی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
