جب فلک نے مجھ کو محروم گلستاں کر دیا اشک ہائے خوں نے مجھ کو گل بداماں کر دیا

“When cruel heaven cast me out and stole the garden's bloom, my tears of blood showered my lap with rose-red blossoms in their room.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

جب آسمان (قسمت) نے مجھے گلشن سے محروم کر دیا، تو میرے خون کے آنسوؤں نے میرے دامن کو پھولوں سے بھر دیا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب فلک نے مجھ سے چمن کی بہاریں اور مسرتیں چھین لیں، تو میرے اشکوں نے غم کی ایک انوکھی دنیا سجا دی۔ فرقت کے صدمے میں جو خون کے آنسو بہے، وہ دامن پر گر کر سرخ گلابوں کی طرح بکھر گئے۔ شاعر نے کتنی خوبصورتی سے دکھایا ہے کہ دل کے اجڑنے پر بھی عاشق کا درد اس کی جھولی کو اپنے ہی خون کے پھولوں سے بھر دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.