فکر ایں و آں نے جب مجھ کو پریشاں کر دیا مَیں نے سر نذر جنون فتنہ ساماں کر دیا

“When cares of this and that distressed and overwhelmed my soul, I offered up my head to madness where storms of tumult roll.”

— خواجہ عزیز الحسن مجذوب
معنی

جب دنیا اور زمانے کی فکروں نے مجھے پریشان کر دیا، تو میں نے اپنا سر ہنگامہ خیز جنون کی نذر کر دیا۔

تشریح

فکرِ ایں و آں سے مراد دنیا کی نفع و نقصان اور ادھر ادھر کی بے معنی پریشانیاں ہیں جو روح پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ شاعر جب دنیاوی حساب کتاب اور عقل کی بندشوں سے تنگ آ گیا تو اس نے پرسکون ہونے کے لیے عقل سے چھٹکارا پا کر خود کو جنون کی دیوانگی کے سپرد کر دیا۔ اپنا سر نذر کرنا دراصل اس خودسپردگی کی خوبصورت علامت ہے، جہاں انسان دنیا کے شور سے بچنے کے لیے سچے جذبے اور بے خودی کو ہی اپنی پناہ گاہ بنا لیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 10Next →