“My life surrendered to the arrow, my blood spent upon the arrowhead; all that I possessed was offered in homage to the guest.”
میں نے اپنی جان تیر کے حوالے کر دی اور اپنا خون تیر کی نوک پر خرچ کر دیا، میرے پاس جو کچھ بھی تھا وہ سب میں نے مہمان کی نذر کر دیا۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے چلائے ہوئے تیر کو کوئی آفت نہیں بلکہ ایک معزز مہمان سمجھا ہے۔ روایت کے مطابق مہمان کی خاطر داری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی، چنانچہ عاشق نے بھی اپنی جان تیر کو اور سارا لہو پیکاں کی نذر کر کے میزبانی کا حق ادا کر دیا۔ یہ عشق میں سپردگی کی وہ انتہا ہے جہاں محبوب کے دیے ہوئے درد اور موت کو بھی مسکرا کر گلے لگا لیا جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
