غزل
کبیر 201-210
کبیر 201-210
یہ غزل سنتوں کی صحبت، محبت اور خدا کی بندگی کے بغیر زندگی کی بے ثمری پر زور دیتی ہے۔ یہ واضح کرتی ہے کہ حقیقی بہادر وہ ہے جو دنیاوی فریب کو ترک کر کے بندگی کرتا ہے، نہ کہ وہ جو ہتھیاروں سے لڑتا ہے۔ یہ اشعار یہ بھی نمایاں کرتے ہیں کہ اصل یوگ مشق ذہن کو قابو کرنے میں ہے، اور روح تب تک کرموں میں جکڑی رہتی ہے جب تک اسے کامل روحانی علم حاصل نہیں ہو جاتا۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ते दिन गये अकारथी , संगत भई न संत। प्रेम बिना पशु जीवना , भक्ति बिना भगवंत॥ 201॥
یہ دن بغیر دعا کے گزر گئے، اور مجھے سنتوں کی صحبت نہیں ملی۔ محبت کے بغیر زندگی جانور جیسی ہے، اور عقیدت کے بغیر زندگی خدا جیسی نہیں۔
2
तीर तुपक से जो लड़े , सो तो शूर न होय। माया तजि भक्ति करे , सूर कहावै सोय॥ 202॥
جو صرف تیر و ترکش سے لڑتا ہے، وہ حقیقی بہادر نہیں ہوتا۔ حقیقی بہادر وہ ہے جو دنیاوی دھوکے کو ترک کر کے بھگت بنتا ہے، یہی بات شاعر کہتا ہے۔
3
तन को जोगी सब करे , मन को बिरला कोय। सहजै सब विधि पाइये , जो मन जोगी होय॥ 203॥
شایر کہہ رہے ہیں کہ جسم کو تو ہر کوئی یوگی بنا سکتا ہے، مگر دل کو یوگی بنانا بہت نایاب ہے۔ جو دل سے یوگی ہو جاتا ہے، وہ آسانی سے سب کچھ حاصل کر لیتا ہے۔
4
तब लग तारा जगमगे , जब लग उगे नसूर। तब लग जीव जग कर्मवश , जब लग ज्ञान ना पूर॥ 204॥
جب تک تارے جگمگاتے ہیں اور جب تک نابینا جاگتا ہے، تب تک جیبِ روح عمل کے تابع ہے، اور جب تک علم مکمل نہیں ہوتا۔
5
दुर्लभ मानुष जनम है , देह न बारम्बार। तरुवर ज्यों पत्ती झड़े , बहुरि न लागे डार॥ 205॥
انسان کی زندگی نایاب ہے، یہ بار بار نہیں ملتی۔ جیسے درخت سے پتیاں گر جاتی ہیں، ویسے ہی زندگی بھی بار بار نہیں جڑتی۔
6
दस द्वारे का पींजरा , तामें पंछी मौन। रहे को अचरज भयौ , गये अचम्भा कौन॥ 206॥
دس دروازوں کا پنجرا ہے، جس میں پرندے خاموش ہیں۔ جو باقی تھے، وہ کس چیز سے حیران ہوئے، اور جو چلے گئے، وہ کیا حیرت لے کر گئے۔
7
धीरे-धीरे रे मना , धीरे सब कुछ होय। माली सीचें सौ घड़ा , ॠतु आए फल होय॥ 207॥
اے دل، آہستہ آہستہ سب کچھ ہوتا ہے۔ مالی سو گھڑے پانی سے سینچتا ہے، مگر پھل تو موسم آنے پر ہی ہوتا ہے۔
8
न्हाये धोये क्या हुआ , जो मन मैल न जाय। मीन सदा जल में रहै , धोये बास न जाय॥ 208॥
نہانے دھونے سے کیا فائدہ، اگر دل کا میل نہ جائے। مچھلی ہمیشہ پانی میں رہتی ہے، اور اس کی خوشبو کبھی نہیں جاتی۔
9
पाँच पहर धन्धे गया , तीन पहर गया सोय। एक पहर भी नाम बीन , मुक्ति कैसे होय॥ 209॥
پانچ پہر بے کار گزر گئے، تین پہر نیند میں گزرے۔ نام کا ایک لمحہ بھی جپ کر، نجات کیسے ہو سکتی ہے؟
10
पोथी पढ़-पढ़ जग मुआ , पंडित भया न कोय। ढ़ाई आखर प्रेम का , पढ़ै सो पंड़ित होय॥ 210॥
کتابیں پڑھتے پڑھتے دنیا میں لوگ مر گئے، مگر کوئی عالم نہیں ہوا۔ جو صرف ڈھائی حرف محبت پڑھ لے، وہ عالم بن جاتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
