“The body is made a yogi by everyone, but the mind is made a yogi by none. By what means does one easily attain this, who is a yogi of the mind?”
شایر کہہ رہے ہیں کہ جسم کو تو ہر کوئی یوگی بنا سکتا ہے، مگر دل کو یوگی بنانا بہت نایاب ہے۔ جو دل سے یوگی ہو جاتا ہے، وہ آسانی سے سب کچھ حاصل کر لیتا ہے۔
یہ شعر ہمیں ظاہری اور باطنی وجود کے فرق کا احساس دلاتا ہے۔ Kabir کہتے ہیں کہ جسم کو زاہد بنانا تو ہر کوئی ظاہری کوشش سے کر سکتا ہے، مگر دل کو योगी بنانا کوئی نہیں سکھا سکتا۔ سچائی یہ ہے کہ حقیقی توبہ اور بے نیازی اندر سے جنم لیتی ہے۔ یہ اشارہ ہے کہ اصل روحانیت صرف دل کی پاکیزگی میں ہے، کسی بیرونی دکھاوے میں نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
