धीरे-धीरे रे मना , धीरे सब कुछ होय। माली सीचें सौ घड़ा , ॠतु आए फल होय॥ 207॥
“Oh mind, slowly, everything takes its time. The gardener waters a hundred pots, but the fruit appears only when the season arrives.”
— کبیر
معنی
اے دل، آہستہ آہستہ سب کچھ ہوتا ہے۔ مالی سو گھڑے پانی سے سینچتا ہے، مگر پھل تو موسم آنے پر ہی ہوتا ہے۔
تشریح
یہ شعر کبیر کی طرف سے ایک پیار بھرے نصیحت کی مانند ہے کہ ہر چیز کو اپنا وقت ہوتا ہے۔ یہاں کبیر نے محنت اور صبر کے درمیان فرق کو ایک خوبصورت استعارہ سے سمجھایا ہے۔ مالی کا سو گھڑے پانی دینا محنت ہے، مگر پھل کا آنا صرف موسم کی آمد پر منحصر ہے۔ یہ اشعار ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہمیں مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے، مگر جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ زندگی کے قدرتی بہاؤ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
