न्हाये धोये क्या हुआ , जो मन मैल न जाय। मीन सदा जल में रहै , धोये बास न जाय॥ 208॥
“What good is washing and bathing, if the mind remains soiled? The fish always resides in water, and its odor never departs.”
— کبیر
معنی
نہانے دھونے سے کیا فائدہ، اگر دل کا میل نہ جائے। مچھلی ہمیشہ پانی میں رہتی ہے، اور اس کی خوشبو کبھی نہیں جاتی۔
تشریح
نہائے دھوئے کیا ہوا، جو دل کا میل نہ جائے۔ مچھلی تو سدا پانی میں رہتی، اس کی بو نہ جائے|| یہ شعر ظاہر و باطن کی صفائی کے فرق کو واضح کرتا ہے۔ Kabir کا خیال ہے کہ جسم کو دھونے سے کوئی فائدہ نہیں، جب تک دل کے گناہ اور میل باقی ہیں۔ حقیقی پاکیزگی اندر سے آتی ہے، جس کی مثال مچھلی کے پانی میں رہنے سے دی گئی ہے۔
