غزل

سب پہ تو مہربان ہے پیارے

سب پہ تو مہربان ہے پیارے
جگر مرادآبادی· Ghazal· 9 shers· radif: है प्यारे

اس غزل میں عاشق کا اپنے محبوب سے دلسوز شکوہ اور والہانہ التجا بیان کی گئی ہے، جو سب پر تو مہربان ہے مگر عاشق کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ شاعر محبوب کے بغیر اپنے دل کو ایک ویران مکان قرار دیتے ہوئے اس کی عنایت اور واپسی کی درد بھری تمنا کرتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
सब पे तू मेहरबान है प्यारे कुछ हमारा भी ध्यान है प्यारे
سب پہ تو مہربان ہے پیارے کچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارے
اے پیارے، تم سب پر تو مہربان رہتے ہو، کبھی ذرا ہمارا بھی خیال اور دھیان رکھو۔
2
आ कि तुझ बिन बहुत दिनों से ये दिल एक सूना मकान है प्यारे
آ کہ تجھ بن بہت دنوں سے یہ دل ایک سونا مکان ہے پیارے
اے پیارے، تم آ جاؤ کیونکہ تمہارے بغیر بہت دنوں سے یہ دل ایک ویران مکان کی طرح خالی پڑا ہے۔
3
तू जहाँ नाज़ से क़दम रख दे वो ज़मीन आसमान है प्यारे
تو جہاں ناز سے قدم رکھ دے وہ زمین آسمان ہے پیارے
اے پیارے، تو جہاں بھی ناز و انداز سے قدم رکھ دیتا ہے، وہ زمین آسمان کے برابر بلند ہو جاتی ہے۔
4
मुख़्तसर है ये शौक़ की रूदाद हर नफ़स दास्तान है प्यारे
مختصر ہے یہ شوق کی روداد ہر نفس داستان ہے پیارے
اے پیارے، محبت کا یہ قصہ بظاہر تو مختصر ہے، مگر اس کا ہر ایک سانس اپنے آپ میں ایک مکمل داستان ہے۔
5
अपने जी में ज़रा तो कर इंसाफ़ कब से ना-मेहरबान है प्यारे
اپنے جی میں ذرا تو کر انصاف کب سے نامہربان ہے پیارے
اے پیارے، ذرا اپنے دل میں انصاف کر کے دیکھ کہ تو کب سے مجھ پر نا مہربان بنا ہوا ہے۔
6
सब्र टूटे हुए दिलों का न ले तू यूँही धान पान है प्यारे
صبر ٹوٹے ہوئے دلوں کا نہ لے تو یوں ہی دھان پان ہے پیارے
ٹوٹے ہوئے دلوں کے صبر کا امتحان مت لو، اے پیارے، تم تو پہلے ہی بہت نازک اور کمزور ہو۔
7
हम से जो हो सका सो कर गुज़रे अब तिरा इम्तिहान है प्यारे
ہم سے جو ہو سکا سو کر گزرے اب ترا امتحان ہے پیارے
ہم سے جو کچھ ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دکھایا، اب اے پیارے تمہارا امتحان ہے۔
8
मुझ में तुझ में तो कोई फ़र्क़ नहीं इश्क़ क्यूँ दरमियान है प्यारे
مجھ میں تجھ میں تو کوئی فرق نہیں عشق کیوں درمیان ہے پیارے
مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے، پھر اے پیارے، ہمارے درمیان یہ عشق کیوں ہے؟
9
क्या कहे हाल-ए-दिल ग़रीब 'जिगर' टूटी फूटी ज़बान है प्यारे
کیا کہے حال دل غریب جگرؔ ٹوٹی پھوٹی زبان ہے پیارے
اے پیارے، یہ غریب جگر اپنے دل کا حال کیسے بیان کرے؟ اس کی زبان تو ٹوٹی پھوٹی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.