ہم سے جو ہو سکا سو کر گزرے — جگر مرادآبادی
ہم سے جو ہو سکا سو کر گزرے
اب ترا امتحان ہے پیارے
“All that lay within our power, we have done and carried through; / Now the trial begins, beloved, the test is up to you.”
— جگر مرادآبادی
معنی
ہم سے جو کچھ ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دکھایا، اب اے پیارے تمہارا امتحان ہے۔
تشریح
اس شعر میں عشق کی انتہا، خلوص اور خودسپردگی کا بڑا دلکش اظہار ملتا ہے۔ عاشق کہتا ہے کہ محبت کا حق ادا کرنے کے لیے جو کچھ ہمارے بس میں تھا، وہ قربانیاں ہم خندہ پیشانی سے دے چکے ہیں۔ اب آزمائش کا رخ محبوب کی طرف پلٹ گیا ہے، جہاں اسے اپنی وفا اور اخلاص کا ثبوت دینا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
