کیا کہے حال دل غریب جگرؔ — جگر مرادآبادی
“What can poor 'Jigar' say of the state of his heart, my dear? Broken and halting is his tongue.”
معنی
اے پیارے، یہ غریب جگر اپنے دل کا حال کیسے بیان کرے؟ اس کی زبان تو ٹوٹی پھوٹی ہے۔
تشریح
جگر مراد آبادی اس شعر میں محبت کی اس کیفیت کو کمال سادگی سے بیان کر رہے ہیں جہاں جذبات کی شدت کے آگے الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ خود کو ’غریب‘ اور اپنی گفتگو کو ’ٹوٹی پھوٹی‘ کہنا دراصل عاجزی کے پردے میں دل کے بے پناہ درد اور سچی محبت کا اقرار ہے۔ یہ محبوب کے سامنے اس نازک بے بسی کا اظہار ہے جب دل میں بات تو بہت ہو مگر زبان پر لرزش کے سوا کچھ باقی نہ رہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
